قواریر ۔ قوامون — Page 11
11 ہے۔عورتوں کو بھی ویسا ہی حق حاصل ہے۔جیسے مردوں کو۔ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔اللہ تعالے نے جس طرح مردوں اور عورتوں کو یکساں احکام دیے ہیں۔اسی طرح انعامات ہیں بھی انہیں یکساں شریک قرار دیا ہے۔اور جین نعماد کے مرد ستحق ہونگے۔اسلامی تعلیم کے ماتحت قیامت کے دن وہی انعامات عورتوں کو بھی ملیں گے۔غرض اللہ تعالے نے نہ اس دنیا میں ان کی کوئی حق تمنی کی ہے۔اور نہ انگلے جہاں میں انہیں کسی انعام سے محروم رکھا۔بات آپ نے اس بات کا بھی اعلان فرمایا کہ وللرجال خلد من درجه یعنی حقوق کے لحاظ سے تو مرداور عورت میں کوئی فرق نہیں۔لیکن انتظامی لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر ایک حق فوقیت حاصل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے ایک مجسٹریٹ انسان ہونے کے لحاظ سے تو عام انسانوں جیسے حقوق رکھتا ہے۔اور جس طرح ایک ادنی انسان کو بھی ظلم اور تعدی کی اجازت نہیں۔مگر پھر بھی بحثیت مجروٹ اپنے ماتحتوں پر فوقیت رکھتا ہے اور اسے قانون کے مطابق دوسروں کو سزا دینے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح تمدنی اور مذہبی معاملات میں مرد و عورت دونوں کے حقوق برا یہ ہیں۔لیکن مردوں کو اللہ تعالے نے قوام ہونے کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے۔لیکن دوسری طرف صنف نازک کے نامے عورتوں کو ایسی طاقت دے دی ہے جس کی وجہ سے وہ بسا اوقات مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔بنگال کی جادوگر عورتیں جب کہ عام طور پر مشہور ہے۔مردوں پر جادو سا کر دیتی ہیں ہیں جہاں مرد کو عورت پر ایک کہ نگ میں فوقیت دی گئی ہے۔وہاں عورت کو استعمالت قلب کی طاقت عطا فرما کہ مرد یہ غلبہ دے دیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے بسا اوقات عورتیں مردوں پر اس طرح حکومت کرتی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کاروبارہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔دراصل س شخص کی الگ الگ رنگ کی حکومت ہوتی ہے۔جہاں تک احکام شریعی اور نظام کے قیام کا سوال ہے۔اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی ہے۔مثلاً شریعت کا یہ محکم ہے۔ہر کوئی لڑکی اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتی۔یہ حکم ایسا ہے جو اپنے اندر بہت فوائد رکھتا ہے۔یورپ میں ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ بعض لوگ دھو کے بانز اور فریبی تھے مگر اس وجہ سے کہ وہ خوش وضع نوجوان تھے۔انہوں نے بڑے