قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 43 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 43

۴۳ کر کے دیکھ لیں آج کے بگڑے ہوئے حال میں بھی بد سے بد تر حال میں بھی۔آپ کو غالبا ایک بھی ایسا واقعہ نظر نہیں آئے گا۔اور ان مظلوم بچوں میں سے لکھا ہے۔کا بچے وہ ہیں جو پانچ سال سے چھوٹی عمر کے ہیں۔اور اپنے ہی گھروں میں اپنے ہی باپوں کے ہاتھوں وہ مظالم کے شکار۔' ہوئے N۔S۔P-C۔C کے STATISTICS کے مطابق یہ اضافہ ہر سال دو گنا ہو رہا ہے۔معینی آنے والے چند سالوں میں شاید آپ کو ڈھونڈ کر وہ گھر نکالنا پڑے گا جہاں عورتوں پر مظالم نہیں ہور ہے۔اور معصوم بچیوں پر مظالم نہیں ہورہے۔اختیار THE NDEPENDENT اپنی ۳۰ سجون 9 ٹر کی آجکل کی بات ہے۔اشاعت میں رکھتا ہے N۔S۔P-C-C کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال بچوں کی تعداد میں ایک سو سینتیس فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ہیں یہ جو اندازہ پیش کیا گیا تھا۔کہ ہر سال دو گنے کا اضافہ متوقع ہے۔اس سے بھی زیادہ ہے۔ایک سو سینتیس فیصد کا مطلب ہے کہ دو گنے سے بھی زیادہ ہے۔اس میں اسی فیصد تعداد معصوم بچیوں کی ہے۔روزنامہ گارڈین GUARDIAN 6 جولائی ششش نے صفحہ ایک پر ہے کہ ایک نیشنل سروے کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ مظلوم بچیوں کی تعداد جو کہ لوکل اتھارٹیز میں رجسٹرڈ ہوئی ہے۔اس میں بائیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔اس اضافہ میں زیادہ تر وہی بچتے ہیں۔یعنی مظلوم جو اپنے والدین کے ستائے ہوئے ہیں۔جہاں تک طلاقوں کا تعلق ہے۔اس ملک میں مڈل کلاس جو تعلیم یافتہ اور اچھی کبھی جاتی ہے۔اور آپ یاد رکھیں کہ یہاں کیونکہ اقتصادی معیار چونکہ اونچا ہے۔اس لئے مڈل کلاس اپنی خاصی کھاتی پیتی کلاس ہے۔اس میں ۳۲ فیصد عورتوں نے یہ نا بہت کر کے عدالتوں میں طلاق لی کہ ان کے خاوند ان پر شدید مظالم کرتے ہیں۔اور مارکٹائی کرتے ہیں۔اور در کنگ کلاس WORKING CLASS میں چالیس فیصد لیکن یہ وہ معاملات جو عدالتوں میں جاکرہ ثابت ہوئے۔اور جن کے نتیجے میں طلاقیں دے دی گئیں۔ایسی مظلوم عورتیں بے شمار ان ساٹھ فیصد میں بھی ہوں گی۔جو کسی وجہ سے عدالتوں تک پہنچ ہی نہیں سکیں۔چنانچہ رپورٹ میں بھی ذکر ملتا ہے کہ کئی اور وجہ سے عورت میں عدالتوں میں نہیں جاتیں بلکہ ہم جب ان کے