قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 20 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 20

۲۰ نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب کبھی عورت بنتے ہیں۔کبھی حاملہ ہوتے ہیں اور کبھی بحہ بنتے ہیں جنتے ہیں۔حالانکہ تمام صوفیاء یہ لکھتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ حضرت شہاب الدین صاحب سہر وردی اپنی کتاب عوارف المعارف، میں حضرت مسیح سے یہ روایت کرتے ہیں کہ كن لم منكوتُ السَّمَاءِ مَن لم يولد مرتين (ماه) یعنی کوئی انسان خدائی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔جب تک دو دفعہ پیدا نہ ہو۔ایک۔وہ پیدائش ہو خدا کے ہاتھوں سے ہوئی۔اور دوسری مریم والی پیدائش پھر اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ر صرف اليقين على الكمال يحصل في هذه الولادة وبهذه الولادة المستحق ميراث الانبياء ومن لم يمله ميراث الانبياء ما ولد وان كان على كمال من الفطنة والذكاء لان الفطنة والذكاء نتيجة العقل والعقل اذا كان يابسا من نور الشرع لا يدخل الملكوت ولا يزال متردداتي الملك (ص) یعنی یقین کے کمالات کے درجہ تک پہنچنا ایسی ولادت کے بعد ہوتا ہے جو دوسری ولادت ہوتی ہے۔اس کے بعد انبیاء کا ورثہ ملتا ہے۔پھر کہتے ہیں۔جیسے یہ میراث نہ ملے نہ انبیاء والے علوم میں وہ سمجھے کہ اس کی دوسری ولادت نہیں ہوئی۔اگر چہ مغلی طور پر اُسے بڑے بڑے لطیفے سو جھیں۔اور اگر چہ اس میں بڑی ذکا ر ہو۔یہ عقل کا نت نتیجہ ہو گا۔روحانیت کا نتیجہ نہیں ہوگا۔اور عقل جب تک خدا کی طرف سے نور نہ آئے روایات میں داخل نہیں ہوتی بلکہ چر میں ہی رہتی ہے۔پس روحانیت میں بھی یہ جوڑے ہوتے ہیں۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ مَا مِنْ مَودُودٍ يُولَدُ وَالشَّيْطَنُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُولَدُ نَستَمِلُ صَارِحَا