قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 19 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 19

19 قالب ہوتی ہے۔اور ہر مومن پر جولیت کفر کی حالت غالب ہوتی ہے۔ملا جب کوئی شخص جاہل ہو گا تو جہالت کی وجہ سے اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوگی اور وہ علم حاصل کرے گا لیکن جب کوئی علیم حاصل کرے گا تو اسے اطمینان حاصل ہو جائے گا کہ علم حاصل کر لیا۔ہر جگہ یہی بات چلتی ہے۔قرآن کریم میں مومن کی مثال فرعون کی بیوی سے دی گئی ہے۔کیونکہ ابتداء میں مومن پر کفر غلبہ کرنا چاہتا ہے لیکن آخر کفر مغلوب ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ہر انسان کا ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں دونوں قسم کی طاقتیں ہوئی ہیں۔کفر کی طرف کفر والی طاقت کھینچتی ہے اور ایمان کی طرف ایمان والی طاقت اور انسان ایک یا دوسری کی طرف مچھر جاتا ہے در حقیقت قرآنی اصطلاح میں رجولیت چیکنگ پاور کا نام ہے اور نسائیت فیضان کا لیکن بعد میں ایک یا دوسرے کی طرف انسان پھر جاتا ہے۔البتہ بعض استثنائی صورت میں بھی ہوتی ہیں۔اور ایسے انسان مریمی صفت ہوتے ہیں یعنی شروع سے ہی ان کی رجولیت اور نسائیت ایک رنگ میں رنگین ہوتی ہے۔اور وہ تقدس کے مقام پر ہوتے ہیں یعنی بعض لوگوں میں نظر تا ایسا مادہ ہوتا ہے کہ تاثیر کا مادہ بھی اُن کے اندر ہوتا ہے اور ناشر کا مادہ بھی۔جب اُن کی رجولیت اور نسائیت کامل ہو جاتی ہیں تو ان سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جو قدرسیت یا مسیحیت کا رنگ رکھتا ہے لیکن باقی لوگ کسی طور پر یہ بات حاصل کرتے ہیں۔میں انسان کے اندر ہی یہ دونوں مارے ہوں اس کو نیا مرتبہ ملنا اور اس کی ایک نئی ولادت ہوتی ہے حضرت مسیح موجود نے سورۃ تحریم سے جب یہ استدلال کیا کہ بعض مریمی صفت ہوتے ہیں تو اس پر نادانوں