قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 17 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 17

1 ہیں۔ورنہ وہ اپنی ذات میں خود مقصود نہیں۔اور جو چیز سیڑھیوں پر لے جائے گی وہ راستہ میں بھی گرے گی۔اسلئے وہ چیزیں جو انسان کی ترقی کے لئے منبتی تھیں وہ جوانوں میں بھی پائی گئیں مگر یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی میں قدر انسان میں ترقی یافتہ ہے اس قدر حیوانات میں نہیں ہے اور پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے ایک بہت ہی گہرا تعلق ہے اور بہت سے اعصابی نقصوں اور دماغی نقصوں کا علاج شہوانی غدودوں کے رس ہیں۔عرض حق یہ ہے کہ شہوانی طاقتوں کے پیدا کرنے والے آلات کا اصل کام اخلاق کی درستگی ہے لیکن چونکہ اصل کام کے بعد کچھ لبقائے ضرور رہ جاتے ہیں جو بطور زائد اسٹیم کے ہوتے ہیں۔اگر انہیں نہ نکالا جائے تو انجن کے ٹوٹنے کا ڈر ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے اس سے دوسرا کام بقالے نسل کا لیا ہے۔اور بجائے نسل انسانی کے چلانے کے کسی اور ذریعہ کے اس ذریعہ کو اختیار کیا۔یہ ایک حقیقت ہے جسے دنیا ابھی تک پوری طرح نہیں کبھی مگر آہستہ آہستہ سمجھ رہی ہے۔اور طبی دنیا مان رہی ہے کہ قوت شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے بہت گہرا تعلق ہے اور ان غدودوں سے کام لئے جاتے ہیں۔چنانچہ یورپ کا ایک ماہر مانتا ہے کہ ان غدودوں میں نقائص کی وجہ سے ہی مایوسی اور کئی دوسرے جسمانی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک امریکن مصنف نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق لکھتا ہے کہ آپ پر کئی شادیاں کرنے کا اعتراض فضول ہے۔کیونکہ آپ خدا تعالٰی کے عشق اور اس کے ذکر میں محو رہتے تھے اور ایسے آدمی کی قوت رجولیت ساتھ ہی نشور کا '