قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 18 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 18

پا جاتی ہے۔گو اس شخص نے صحیح الفاظ میں حقیقت کو بیان نہیں کیا۔لیکن حق یہی ہے کہ بقائے دوام کی خواہش کا ذریعہ غدود شہوانیہ ہیں۔اور بقائے نسل ان کا ایک ضمنی اور ما تحت فعل ہے۔پس ضروری تھا کہ اس اضطراب کو کم کرنے کے لئے جو خدا تعالیٰ نے غدود شہوانیہ کے ذریعہ سے انسان کے اندر پیدا کیا تھا اور اس طرح اپنی طرف بلایا تھا۔ایک ایسی صورت کی جاتی کہ اضطراب اپنے اصل رستہ سے ہٹ جانے کا موجب نہ ہوتا۔اور طاقت کے بقیہ حصہ کو استعمال بھی کر لیا جاتا جس کے لئے مرد و عورت کے تعلقات کو رکھا گیا۔اور مرد کو عورت کے لئے اور عورت کو مرد کے لئے موجب سکون بنا دیا۔حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔آپ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے بیماری کی حالت میں روزہ رکھ لیا۔تو اس سے شہوانی طاقت کو بہت ضعف پہنچ گیا۔بیسیوں لوگوں کو میرے علاج سے فائدہ ہوتا تھا۔مگر مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر میں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر شروع کرنا چاہیے۔چنانچہ کس نے کثرت سے مسیح وتحمید کی تو شفا ہو گئی پس یہ بہت بار یک تعلقات ہیں جنہیں ہر ایک انسان نہیں سمجھ سکتا۔روحانیات میں بھی رجولیت اور نسائیت کی صفا پسند کہ ہر ایک چیز کواللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا ہے تاکہ غفلت میں کمال غلط اطمینان کا باعث ہو کر باعث تباہی نہ ہو اور تاکہ ہر ایک چیز اپنی ذات میں کامل نہ ہو اور اس کامل وجود کی طرف اس کی توجہ رہے جس سے کمال حاصل ہوتا ہے یہ ظاہری حالات کے علاوہ روحانیت میں بھی چلتا ہے۔اور اس سے بھی اس ظاہری سلسلہ کی حقیقت کھل جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کافر یہ ابتداء رجولیت ایمان کی حالت