قواریر ۔ قوامون — Page 12
۱۲ کہ کیا میں اس قابل نہیں ہوں کہ تم میری تلاش کرد۔تب اُس کی زبان سے میلی کی آواز نکلتی ہے اور وہ کہہ اُٹھتا ہے کہ آپ ہی تو اصل مقصود ہیں۔اسی طرح جب عورت مرد کی تلاش کر رہی ہوتی ہے۔اُسے خدا کہتا ہے کہ کیا نہیں تلاش کرنے کے قابل نہیں ہوں۔تب وہ پکار اٹھتی ہے کہ بلی یقیناً آپ ہی اصل مقصود ہیں۔اس طرح مرد اور عورت ایک دوسرے کے متعلق تلاش اور تیس کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کر لیتے اور اُسے پالیتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا مادہ فطرت انسانی میں مخفی کیوں رکھا اب سوال ہو سکتا ہے کہ خدا تعالٰی نے ظاہر کیوں نہ مرد و عورت میں اپنی محبت پیدا کر دی اور اس طرح مخفی کیوں رکھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہر محبت ہوتی تو حصول اتصال موجب ترقیات نہ ہوتا اور نہ اس کا ثواب ملتا۔ثواب کے لئے اختفاء کا پہلو ضروری ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے مرد کے پیچھے عورت کے لئے اور عورت کے پیچھے اپنی محبت کو چھپا دیا۔تاکہ جو لوگ کوشش کر کے اُسے حاصل کر یں وہ ثواب کے مستحق ہوں مرد میں عورت کی اور عورت میں مرد کی جو خواہش پیدا کی وہ مبہم خواہش ہے اصل خواہش خدا ہی کی ہے۔اس لئے اُس نے انسان میں یہ مادہ رکھا کہ وہ خواہش کرے کہ میں مکمل ہوں۔اور وہ یہ سمجھے کہ مجھے تکمیل کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔لیکن اگر انسان میں صرف اضطراب اور تجسس کی خواہش ہی رکھی جاتی تو اضطراب مایوسی بھی پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ جہاں انسان کے قلب میں مکمل ہونے کے متعلق اضطراب ہو وہاں اس اضطراب کے نکلنے کا کوئی رستہ بھی ہو۔