قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 11 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 11

اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب مرد اور عورت ایک ہی چیز کے دو ٹکڑے ہیں تو کیوں ان کو علیحدہ علیحدہ وجود بنایا کیوں ایسا نہ کیا کہ ایک ہی وجود رہنے دیا تا کہ مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی خواہش ہی نہ ہوتی۔اس کا جواب اسلام یہ دنیا ہے کہ وَمِن أَيته أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنَ الْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمة مردم آیت (۲۲) اُس کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ اُس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے بنائے تاکہ تمہیں آپس میں ملنے سے سکون حاصل ہو۔گویا انسان میں ایک اضطراب تھا۔اس اضطراب کو دور کرنے کے لئے اُس کے دو کڑے کر دیئے گئے۔اور اُن کا آپس میں منا سکون کا موجب قرار دیا گیا۔اب ہم غور کرتے ہیں کہ وہ کونسا اضطراب ہے جس کا نمونہ عورت ومرد کے تعلقات ہو سکتے ہیں۔سو یا درکھنا چاہیے کہ یہ وہی الستُ بِرَتُكُمْ قَالُوا یکی (اعراف آیت ۱۷۳) والا اضطراب ہے جو انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے۔اور میں کے لئے ایک تجسس کی خواہش اس کے اندر ودیعت کی گئی ہے جو اُسے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جاتی ہے۔جو چیز اپنی ذات میں مکمل ہو اُس میں تجسس نہیں ہوتا لیکن جب تجسس کا مادہ ہو تو بسا اوقات لوگ کسی چھوٹی چیز کا تخت کرتے ہیں تو انہیں بڑی چیز مل جاتی ہے۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کے قلب میں تجسس کی خواہش پیدا کر دی ہے۔جب وہ اس سے کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی ذات اُس کے سامنے جلوہ گر ہو جاتی ہے اور وہ اُسے پالیتا ہے۔جب مرد عورت کی تلاش کر رہا ہوتا ہے اور اُس کے لئے اپنے قلب میں اضطراب پاتا ہے تو خدا کہتا ہے