قواعد ترتیل القرآن — Page 18
18 ادغام ناقص ادغام ناقص اور ادغام تام میں فرق : ادغام ادغام تام چار حروف جن میں ادغام ناقص ہوتا ہے : ن ، ي ، م ، و دو حروف جن میں ادغام تام ہوتا ہے : ل ، ر ii آواز کو ناک میں لمبا کر کے عفتنہ سے پڑھتے ہیں مثالیں: مَنْ يَقُوْلُ (ي پر فتحہ ہے، مگر مشدّد بن گیا ہے) مِنْ وَلِيّ (و پہ فتحہ ہے، مگر مشدّد بن گیا ہے) ii۔ادغام ہوتا ہے مگر عنہ نہیں ہوتا مثالیں : أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ نُ ، ن میں مکمل مدغم ہو گیا ہے) مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ الله ( کاغتہ تر میں مکمل مدغم ہو گیا ہے) اہم نوٹ : (3 1) ن یا تنوین کے بعد اگر وہ ہی میں سے کوئی حرف آئے تو یان صرف اس صورت میں ان حروف (و، ي) میں مدغم ہو گا بشر طیکہ ن یا تنوين دو مختلف الفاظ میں ہوں۔اگن یا تنوین اور وہی ایک ہی لفظ میں آئیں ، تو ادغام نہیں ہو گا۔ایسی صورت میں ، ادغام کے بجائے اظہار ہو گا۔2) قرآن مجید میں صرف چار الفاظ ایسے ہیں جہاں اچی اور کی ایک ہی لفظ میں آئے ہیں۔ان الفاظ میں ادغام یا غنہ نہیں ہوتا: بُنْيَانٌ - قِنْوَانٌ صَنْوَانٌ دُنْيَا -۔ii۔iii۔iv اقلاب ا قلاب کو ابدال بھی کہتے ہیں۔ابدال کے لغوی معنی 'بدلنے کے ہیں۔اصطلاح میں اس سے مراد ایک حرف کو مع رعایت غنہ پڑھنا ہے۔قرآن مجید میں اقلاب صرف ایک حرف میں آتا ہے جو اب ' ہے۔البتہ ب کا متحرک ہونا شرط ہے۔جسبانی یا تنوین کے بعدب متحرک آئے تق، ثم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس تم پہ آواز کو ٹھہراتے ہوئے لمبا کرتے ہیں۔