قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 84 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 84

84 چھٹی آیت وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ ط الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ (البقرة: 144) اور (اے پیغمبر) ! جس قبلہ پر تم (پہلے) تھے ( یعنی بیت المقدس) یا جس قبلہ پر تم ہو (یعنی کعبہ) ہم نے اس کو اس غرض سے مقرر کیا تھا تا ہم ظاہر کر دیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے اور مدینہ میں ہجرت کے بعد قریباً ڈیڑھ سال تک مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس رہا۔یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کیا جاتا تھا اس کے بعد بیت المقدس کی بجائے مکہ معظمہ قبلہ مقرر کیا گیا۔یہ دونوں قبلے بطور ابتلاء کے تھے۔مکہ میں کوئی یہودی نہیں تھا اور مکہ کے لوگ کعبہ کی عزت کرتے تھے اور نسلاً بعد نسل اس کو اپنا دینی مرکز سمجھتے تھے اور ان کے لئے یہ بہت مشکل تھا کہ کعبہ کو چھوڑ کر وہ بیت المقدس کو جو یہود کا قبلہ تھا اپنا قبلہ مقرر کریں اور صرف ایسے ہی لوگ کعبہ کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف منہ پھیر سکتے تھے جو سچے دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کے لئے تیار تھے۔خواہ وہ ان کے طبعی میلان اور ان کی روایات اور مذہبی جذبات کے کیسے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔اس لئے مکہ میں اہلِ مکہ کے لئے بیت المقدس کا قبلہ ایک امتحان تھا۔اور اس امتحان میں وہی پاس ہو سکتے تھے جو مخلص مومن ہوتے تھے۔لیکن جب مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حالات بالکل اس کے خلاف تھے۔یہاں یہود کی قومیں آباد تھیں جو بیت المقدس کو اپنا قبلہ بھتی تھیں اور ان کے لئے بیت المقدس سے منہ موڑ کر کعبہ کی طرف منہ کرنا ایک موت تھی۔مگر بیت المقدس کی طرف منہ کرنا عین ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق