قتل مرتد اور اسلام — Page 85
85 تھا اور اس کی طرف مسلمانوں کے ساتھ مل کر منہ کرنا ان کے لئے چنداں دشوار نہ تھا اور بہت سے یہودی منافقانہ طور پر مسلمانوں میں ملنے شروع ہو گئے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا شروع کیا ایسے لوگوں کے امتحان کے لیے اور منافقوں اور کمزوروں کو مخلصین کی جماعت سے الگ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ بیت المقدس جو چودہ پندرہ سال سے مسلمانوں کا قبلہ مقرر تھا اس کو ترک کر دینے کا حکم دیا۔پس یہ دونوں قبلے بطور ابتلاء کے مقرر کئے گئے اور اس ابتلاء کی غرض اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ (البقرة:144) تاہم یہ ظاہر کر دیں کہ رسول کا سچا متبع کون ہے اور کون اپنی ایڑیوں پر واپس لوٹ جاتا ہے۔پس اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں سچا ایمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں وہ اسلام میں سے نکل جائیں اور مسلمانوں کی جماعت میں صرف مخلصین کا گروہ باقی رہے اور اللہ تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا کرتا ہے جس کی رو سے کچھ لوگ مسلمانوں میں سے نکل جائیں اور اسلام کو چھوڑ دیں۔غرض خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ جو لوگ ارتداد اختیار کرنا چاہیں وہ بڑی خوشی سے مرتد ہو کر اسلام سے الگ ہو جاویں۔یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہے تا اسلام خس کم جہاں پاک کا مصداق ہو مگر قتل مرتد کے حامی اسلام کی طرف ایسی تعلیم پیش کرتے ہیں جس کا نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہے۔یعنی یہ کہ جھوٹے اور بے ایمان لوگ اسلام کے اندر ہی شامل رہیں اور وہ کبھی اسلام کو نہ چھوڑیں۔پس ایسی تعلیم اس خدائے قدوس کی نہیں ہو سکتی ہے جو چاہتا ہے کہ ایسے لوگ اسلام میں سے نکل جائیں اور خود ان کے نکالنے اور اسلام سے خارج کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے۔تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کے موقع پر جواللہ تعالیٰ کا اس حکم سے منشاء تھا