قتل مرتد اور اسلام — Page 230
230 المنذر بن النعمان کو کھڑا کیا جو مغرور کے خطاب سے مشہور تھا اور اُس کو اپنا بادشاہ بنالیا۔پس ان حالات میں یہ کہنا کہ عہد خلافت اولیٰ میں مسلمانوں کا مرتدین سے قتال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کیلئے قتل کی سزا مقرر کی گئی ہے ایک باطل دعوی ہے اور جو شخص ایسا دعوی کرتا ہے وہ یا تو تاریخ اسلام سے قطع نا واقف یا عمداد نیا کو دھوکہ دینا چاہتا ہے۔مسیلمہ کذاب اسی طرح قائلین قتل مرتد نے مسیلمہ کذاب کے واقعہ کو پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔اور اعتراض کیا ہے کہ اگر لا اکراہ فی الدین کے یہی معنی درست ہیں کہ دین کے بارہ میں کسی چیز پر جبر نہیں کرنا چاہیئے تو مسیلمہ کذاب سے کیوں جنگ کی گئی اور اس کو کیوں آزاد نہ چھوڑا گیا؟ اقول اگر اُس کا صرف رسالت کا ہی دعویٰ ہوتا اور ملکی معاملات میں وہ کوئی دخل نہ دیتا تب تو بے شک حامیان قتل مرتد کا اعتراض قابل غور ہوتا۔مگر یہاں تو معاملہ ہی برعکس ہے۔ان بزرگان کو اگر تاریخ اسلام سے کچھ بھی آگا ہی ہو تو اُن کو معلوم کرنا چاہئیے کہ مسیلمہ کذاب کی اصل غرض حکومت سے تھی۔نبوت کا دعوی تو صرف ایک ذریعہ تھا جو اس غرض کے حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بنو حنیفہ کے وفد کے ساتھ مل کر مدینہ میں آیا اور یہ شرط پیش کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے خلیفہ بنادیں تو میں آپ کی اتباع کرلوں گا۔آپ نے ایک کھجور کی چھڑی اٹھا کر فرمایا کہ تجھے اس چھڑی کے برابر بھی نہیں دیا جائے گا۔یہ کہہ کر آپ اُس کے پاس سے چلے آئے۔واپس جا کر اس نے نبوت کا دعوی کیا اور کہا کہ نصف ملک ہمارا ہے اور نصف ملک قریش کے لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں