قتل مرتد اور اسلام — Page 231
231 مندرجہ ذیل مضمون کا خط لکھا:۔من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله۔سلام عليك فانی قد اشركت في الامر معك وان لنا نصف الارض ولقريش نصف الارض ولكن قريشا قوم يعتدون۔(ملاحظہ ہو تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 1849) یعنی میں آپ کے ساتھ اس امر میں شریک کیا گیا ہوں۔نصف ملک ہمارا ہے اور نصف قریش کا۔آپ نے جواب میں لکھوایا :۔إِنَّ الْأَرْضَ لِلهِ يُوْرِثُهَا مَنْ تَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف:129) کہ ملک تو اللہ کا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث کر دیتا ہے اور اچھا انجام متقیوں کے ہی ہاتھ رہتا ہے۔بعد دعوای نبوت حجر اور الیمامہ پر حاکم بن گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ والی شمامہ بن اثال کو نکال دیا ( خمیس جلد 2 صفحہ 177) سجاح باغیہ کے ساتھ جو مسلمانوں سے لڑنے کا ارادہ رکھتی تھی اتحاد کر لیا اور اسے کہا اكل بقومى وقومك العرب یعنی اپنی اور تیری قوم کی مدد سے تمام عرب کو فتح کرلوں گا ( تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 1918) اس کو بعد از دعوای نبوت دو مدنی صحابی ملے۔حبیب بن زید اور عبداللہ بن وہب الاسلمی۔اس نے دونوں کو پکڑ کر اپنی نبوت منوانی چاہی۔عبداللہ تو مرتد ہو گیا مگر حبیب نے نہ مانا تو اُسے عضو عضو کاٹ کر آگ میں جلا دیا ( تاریخ خمیس جلد 2 صفحہ 241) کیا ان حالات میں حامیان قتل مرتد کہہ سکتے ہیں کہ مسیلمہ سے محض ارتداد کی وجہ سے قبال کیا گیا اور یہ کہ اس کے واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔مسیلمہ کے ساتھ اس قدر جمعیت اکٹھی ہو گئی تھی کہ جب یمامہ میں خالد بن ولید