قتل مرتد اور اسلام — Page 229
229 تلوار اُٹھائی اور جنگ کی بنیاد ڈالی۔جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جن قبائل نے ارتداد اختیار کیا اُن کا ارتداد مذہبی اختلاف تک محدود نہ تھا بلکہ اُنہوں نے سلطنت اسلامی سے بغاوت اختیار کی۔تلوار کو ہاتھ میں لیا۔مدینہ منورہ پر حملہ کیا اپنی اپنی قوم کے مسلمانوں کو قتل کیا۔آگ میں ڈالا اور اُن کا مثلہ کیا۔جیسا کہ طبری کی مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہے۔ولم يقبل خالد بعد هزيمتهم من احد من اسد وغطفان ولا هوازن ولا سليم ولاطئ الا ان ياتوه بالذين حرقوا ومثلوا وعدوا على اهل الاسلام في حال ردّتهم۔(تاریخ طبری جلد 4 صفحه 1900 وايضا ابن خلدون جلد 2 صفحہ 71 و تاریخ الکامل جلد 2 صفحہ 149 بتغائر الالفاظ ) یعنی جب بنی اسد اور غطفان اور ہوازن اور بنی سلیم اور بنی طئی کو شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو معافی دینے سے انکار کیا جب تک وہ ان لوگوں کو پیش نہ کریں جنہوں نے مرتد ہونے کے بعد مسلمانوں کو آگ میں ڈال کر جلایا اور اُن کے ہاتھ پاؤں ناک وغیرہ کاٹے اور اُن پر ظلم کئے۔اسی طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ مرتدین نے اپنے اپنے علاقوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو نکال دیا اور بعض جگہ مرتدین نے جدا گانہ بادشاہت بھی قائم کر لی۔یا قائم کرنے کی کوشش کی۔مثلاً ابن خلدون نے لکھا ہے۔وارتدت ربيعة ونصبوا المنذر بن النعمان بن المنذر وكان يسمى المغرور فاقاموه ملكا كما كان قوم بالحيرة۔ނ ( ابن خلدون جلد 2 صفحہ 76 و تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 1960 ) یعنی بنو ربیعہ نے (جو بحرین کا ایک قبیلہ تھا) ارتداد اختیار کیا اور مرتد ہونے کے بعد