قتل مرتد اور اسلام — Page 154
154 ایک ہی علاج ہو سکتا تھا کہ اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جاوے۔لیکن اس دنیا میں ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے اور زبردستی کرنے اور جبر سے اسلام منوانے میں آزمائش کا اصول باطل ہو جاتا ہے۔اور لا اکراہ فی الدین کے ان معنوں کی اللہ تعالیٰ کا یہ قول تائید کرتا ہے۔قد تبين الرشد من الغتی یعنی دلائل ظاہر ہو گئے اور بینات واضح ہو گئیں۔اب ایک جبر کا ہی طریق باقی تھا اور یہ جائز نہیں کیونکہ یہ انسان کے مکلف ہونے کے اصول کے منافی ہے۔“ مندرجہ بالا حوالہ سے ایک بات نئی معلوم ہوئی اور وہ یہ کہ بعض لوگوں نے لا اکراہ فی الدین کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ اگر کوئی شخص اسلام سے ارتداد اختیار کرے تو ایسے آدمی پر جبر نہیں کرنا چاہئیے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض ایسے لوگ گزرے ہیں جو آیت لا اکراہ فی الدین کے ماتحت یہ جائز نہیں سمجھتے تھے کہ کسی کو اسلام پر رکھنے کے لئے جبر کا استعمال کیا جائے اور مرتدین کو مجبور کیا جاوے کہ وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوں اووہ ان لوگوں کے ساتھ متفق نہیں تھے جو قتل مرتد کی حمایت میں یہ کہتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین ان لوگوں کے لئے ہے جو ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور جولوگ اسلام میں داخل ہو جاویں ان کے لئے جبر جائز ہے۔ایسے لوگوں کو جبر سے اسلام میں رکھا جاسکتا ہے اور اسی لئے شارح نے قتل مرتد کا حکم دے رکھا ہے۔پس حامیان قتل مرتد کا وہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک ایک فرد نے بھی اس مسئلہ کے متعلق اختلاف نہیں کیا۔حافظ ابن القیم کا قول تو خود مولوی شبیر احمد صاحب نے نہایت ہی مہربانی فرما کر مہیا فرمایا ہے اور یہ دوسرا قول بحر المحیط والے نے پیش کیا ہے۔اب میں فتح البیان جلد اول صفحہ ۳۴۰ سے ایک عبارت نقل کر کے لا اکراہ فی الدین کی بحث کو ختم کرتا ہوں۔صاحب فتح البیان فرماتے ہیں:۔وقال في الكشاف في تفسير هذه الآية اى لم يجر الله امر الايمان