قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 155 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 155

155 على الاجبار والقسر ولكن على التمكنّ والاختيار و نحوه قوله وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَأمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - اى لو شاء لقسرهم على الايمان ولكن لم يفعل وبنى الامر على الاختيار۔“ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کشاف میں لکھا ہے کہ اس آیت کریمہ کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے امر کو جبر و اکراہ پر جاری نہیں کیا بلکہ قدرت اور اختیار پر چھوڑ رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے:۔وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَا مَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (يونس: 100) یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا اور اس بات کو انسان کے اختیار پر چھوڑ دیا ہے۔چکی ہے۔اب میں خیال کرتا ہوں کہ لا اکراہ فی الدین کے مفہوم کے متعلق کافی بحث ہو کافی ہے سمجھنے کو اگر اہل کوئی ہے۔