قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 153 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 153

153 کرنا ایک بیہودہ حرکت ہے کیونکہ ایسے اسلام لانے کا اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں؟ نیز میں حامیان قتل مرتد سے یہ بھی پوچھتا ہوں کہ جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد پھر ارتداد اختیار کرنا چاہے ایسے آدمی کو اگر جبر سے اسلام میں رکھا جائے گا تو اس سے اس شخص کو کیا فائدہ ہوگا؟ ابن کثیر تو فرماتے ہیں کہ ایسے اسلام سے اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔مولوی صاحب! آپ صاحبان کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ اب حامیان قتل مرتد دیکھیں کہ بحر المحیط میں کیا لکھا ہے:۔وقيل لايـكـره على الاسلام من خرج الى غيره وقال ابو مسلم والـقــفــال معناه انه مابنی تعالی امرالایمان على الاجبار والمقسر وانما بناه على التمكن والاختيار ويدل على هذا المعنى انه لما بين دلائل التوحيد بيانا شافيا۔قال بعد ذلك لم يبق عذر في الكفر الا ان يقسر على الايمان ويجبر عليه وهذا مالا يجوز في دار الدنيا التي هي دار الابتلاء اذ فى القهر والاكراه على الدين بطلان معنى الابتلاء يؤكد هذا قوله "وَقَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ“ یعنی ظهرت الدلائل ووضحت البينات ولم يبق بعدها الا طريق القسر واالالجاء وليس بجائز لانه ينا فى التكليف (بحر المحيط جلد ۲ صفحه ۲۸۲٬۲۸۱) بعض نے لا اکراہ فی الدین کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ جو شخص اسلام سے نکل کر کوئی اور دین اختیار کرے ( یعنی ارتداد اختیار کرے) تو ایسے شخص کو اسلام پر مجبور نہ کیا جاوے اور ابو مسلم اور قفال کا یہ قول ہے کہ اس آیت کریمہ کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معاملہ جبر و اکراہ پر مبنی نہیں کیا بلکہ اس کی بنیا د انسان کے اختیار اور قدرت پر رکھی ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کو خوب کھول کر بیان فرما دیا تو اب کسی کے پاس کفر پر رہنے کے لئے کوئی عذر باقی نہیں۔اب بھی اگر وہ اسلام کو قبول نہیں کرتا تو اس کا