قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 76 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 76

76 اِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَمَتْ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَيْكَ حَطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ** وَأُولَيكَ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (البقرة: 218) اور یہ کفار تم سے برابر لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو تمہارے دین سے برگشتہ کر دیں اور جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہوگا اور کفر ہی کی حالت میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کا کیا کرایا دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت گیا اور یہی ہیں دوزخی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے۔“ 66 اس آیت کریمہ میں بھی کسی دنیوی سزا کا ذکر نہیں اور یہ نہیں کہا گیا کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔اس آیت کریمہ پر ایک مولوی صاحب جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔اس آیت میں بھی قیمت کا لفظ سزائے قتل کا منافی نہیں۔اس لئے کہ اول تو یہ لفظ موت بالقتل اور موت طبعی دونوں پر یکساں حاوی ہے اور اس کے استعمال سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام مرتدین کے ساتھ ساتھ ان مرتدین کے متعلق بھی صراحت کر دی جائے جو ارتداد اختیار کرتے ہی ہیئت حاکم اسلام کے دائرہ اثر واقتدار سے باہر نکل جائیں اور اسلامی حکومت کا محکمہ قضاء ان پر حد جاری نہ کر سکے۔اس کے علاوہ یہ آیت ان مرتدین کی حالت پر بھی منطبق ہوتی ہے جو کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت ہونے کے باعث شرعی سزائے قتل سے محفوظ رہتے ہیں۔“ اس اقتباس میں اس آیت کریمہ کے سزائے قتل کے منافی نہ ہونے کی دو وجوہات لکھتے ہیں۔اوّل یہ کہ اس میں موت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتل اور طبعی موت دونوں پر حاوی ہے اور یہ مشتر کہ لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ عام مرتدین کے ساتھ ساتھ ان مرتدین کے متعلق بھی صراحت کر دی جائے جو اسلامی سلطنت سے بھاگ جانے کے باعث سزائے قتل سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔”عام مرتدین سے مولوی صاحب کی مراد وہ