قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 75 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 75

75 میں تو بہ نہ کرنے پر یہ الفاظ چسپاں نہیں ہو سکتے بلکہ یہ ایک لمبا عرصہ چاہتے ہیں۔پس اس آیت کے الفاظ یقینی طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ کس کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا تھا۔چوتھے اس آیت کے متعلق حسن بصری کا یہ قول ہے کہ انهم طائفة من اهل الكتب ارادوا تشكيك اصحاب رسول الله صلى الله علة وكانوا يظهرون الايمان بحضرتهم ثم يقولون قد عرضت لنا ه شبهة فيكفرون ثم يظهرون ثم يقولون قد عرضت لناشبهة أخرى فيكفرون ويستمرون على الكفر الى الموت و ذلك معنى قوله تعالى: وقالت طائفة من اهل الكتب إلى لعلهم يرجعون۔(روح المعانی جلد نمبر 2 صفحہ 196 ) یعنی اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ اہل کتاب کی ایک جماعت تھی جنہوں نے صحابہ کے دل میں اسلام کے متعلق شک ڈالنا چاہا اس لئے ان کے پاس آ کر وہ ظاہر کرتے کہ ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں۔پھر بعد میں کہتے کہ ہمارے دل میں شبہ پیدا ہو گیا ہے اور ارتداد اختیار کرتے۔پھر آ کر ایمان کا اظہار کرتے پھر کہتے کہ ہمارے دل میں اور شبہ پیدا ہو گیا ہے اور پھر اسلام سے انکار کرتے اور پھر اسی انکار پر قائم رہتے یہاں تک کہ مرجاتے اور یہی معنی ہیں اس آیت کریمہ کے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ اوّل روز میں قرآن پر ایمان لاؤ اور آخر روز میں انکار کر دو تا اس حیلہ سے مسلمان اسلام سے روگردانی کر لیں۔پس حضرت حسن بصری کے اس قول سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرتدین کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔پانچویں آیت وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ