قتل مرتد اور اسلام — Page 77
77 مرتدین ہیں جن کو قتل کی سزا دی جائے گی۔مگر میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ بقول آپ کے موت کا لفظ رکھ کر استثنائی صورت کی تو صراحت کر دی گئی مگر عام حکم کی بھی صراحت ہونی چاہئیے تھی۔جس کے ساتھ ساتھ اس استثنائی صورت کی وضاحت کی گئی ہے وہ کہاں ہے؟ عام مرتدین کے متعلق تو قتل کی سزا تھی اور ایسے احکام کسی قانون کی کتاب میں ذومعنی الفاظ میں کبھی نہیں دیئے جاتے۔اول ضرورت تو عام قاعدہ کی تھی کہ مرتد کوتل کر دو۔اس حکم کی صراحت نہیں کی گئی اور بقول آپ کے استثناء کی صراحت کر دی گئی ہے۔مولوی صاحب! یہ استثناء ایسا نہیں تھا۔جس کے ذکر کی بھی ضرورت ہوتی۔کیونکہ جس کو ذرا بھی عقل ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص ارتداد اختیار کرتے ہی ہیئت حاکم اسلام کے دائرہ اثر و اقتدار سے باہر نکل جائے اور اسلامی حکومت کا محکمہ قضاء اس پر حد جاری نہ کر سکے ایسا شخص قتل سے محفوظ ہو جائے گا۔پس اس امر کے سمجھانے کے لئے یہ ضرورت نہ تھی کہ قتل کا لفظ چھوڑ کر موت کا لفظ استعمال کیا جاتا اور قتل کے حکم کو ایسا منفی کر دیا جاتا کہ سوائے مولوی ظفر علی خان صاحب کے دماغ کے اس کو کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔اگر اس آیت میں یہی منشاء تھا کہ قتل اور طبعی موت دونوں صورتوں کی صراحت کر دی جائے تو اس جگہ بھی وہی طریق اختیار کیا جاتا جو ایسے موقعوں پر قرآن شریف میں دوسرے مقامات میں اختیار کیا گیا ہے نہ یہ کہ ایک غیر ضروری استثناء کی وضاحت کے لئے عام اور ضروری حکم کو اخفاء کے ایسے پردے میں چھپا دیا جا تا کہ کبھی بھی کسی انسان کی عقل وہاں تک نہ پہنچ سکتی۔اگر قتل اور طبعی موت دونوں صورتوں کے بیان کی ضرورت پیش آئے تو قرآن دونوں صورتوں کے اظہار کے لئے ایسا نہیں کرتا کہ قتل اور موت کے لئے صرف موت کا ہی لفظ استعمال کرے بلکہ دونوں لفظوں کو الگ الگ استعمال فرما کر صحیح مفہوم کو واضح فرماتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے:۔وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ