قتل مرتد اور اسلام — Page 264
264 مسلم ہے۔دوسرے فرقوں کے فقہاء اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اُن کے نزدیک محض ارتداد ہی موجب قتل ہے۔اسی لئے اُن کا یہ فتوی ہے کہ اگر مرتد پیر فرتوت ہو جس میں قتال تو کجا چلنے پھرنے کی بھی طاقت نہ ہو اُس کو بھی قتل کر دو۔اسی طرح اگر کوئی بڑھیا عورت ہے جو کسی متنفس کو گزند نہیں پہنچاتی اور بدقسمتی سے ارتداد اختیار کرتی ہے تو اُس بڑھیا کو بھی قتل کر دو۔اگر کوئی نابینا یا لنگڑا لو لا ہے یا بیمار اور ضعیف ہے مثلاً سل کی مرض میں مبتلا ہے اور چند دن کا مہمان ہے اور شیطانی اغواء سے اسلام سے مرتد ہو کر کوئی اور دین اختیار کرتا ہے تو ایسے شخص کی گردن پر بھی تلوار چلا دو۔غرض اُن کے نزدیک محارب ہونا کوئی شرط نہیں صرف ارتداد ہی ایسا جرم ہے جس کے لئے قتل کی حد شرعی مقرر ہے عورت ہو ، مرد ہو، بوڑھا ہو ، جوان ہو، بیمار ہو، تندرست ہو اگر ارتداد اختیار کرے گا تو اس کو فی الفور قتل کر دینا چاہئیے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ عقیدہ بے شک اُس اصول کے خلاف ہے جو ائمہ احناف نے بیان کیا ہے اور دونوں عقیدوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک گروہ محض ارتداد ہی کو موجب قتل ٹھہراتا ہے۔دوسرا گروہ محض ارتداد کوقتل کا موجب نہیں ٹھہرا تا بلکہ حراب کو اصل موجب قتل قرار دیتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں عقیدے درست نہیں ہو سکتے۔ان دونوں گروہوں میں سے صرف ایک ہی گروہ حق پر ہوسکتا ہے اور ہمارے نزدیک فرقہ حنفیہ اپنے اس اصول میں جس کو میں اوپر کتب فقہ کے الفاظ میں نقل کر چکا ہوں حق پر ہے۔کیونکہ ان کا یہ اصول قرآن شریف کی تعلیم کے عین مطابق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے بالکل موافق ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ہم دونوں فریق کو حق پر خیال کریں آخر ایک کو ہی حق پر خیال کیا جائے گا۔پس ہمارے نزدیک وہی اصل درست اور صحیح ہے جو ائمہ فقہ حنفیہ نے بیان کیا ہے اور جس کو میں انہی کے الفاظ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔