قتل مرتد اور اسلام — Page 265
265 دوسرے گروہ کا اصول کہ محض ارتداد ہی اصل موجب قتل ہے نہایت ہی غلط اصول ہے جس کی نہ قرآن شریف تائید کرتا ہے اور نہ سنت رسول ﷺ۔پس ہم ایسے اصول کو جو اسلام کے روشن نام پر ایک دھبہ ہے کسی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔جب قرآن شریف کی صریح تعلیم ایسے اصول کے خلاف ہے تو ہم قرآن شریف کی تعلیم کو کس طرح ترک کر سکتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر فقہ حنفیہ کے ائمہ بھی اس کے خلاف کوئی اصول قائم کرتے یا اگر حنفیوں کا طرز عمل ان کے بیان کردہ اصول کے خلاف ہو تو ہم حق کے کھل جانے پر حنفیوں کو بھی چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ ہمارا ایمان تو خدا اور اس کے رسول پر ہے نہ کسی اور پر۔پھر حامیان قتل مرتد فرماتے ہیں کہ قتل مرتد پر تمام امت کا اتفاق ہے امت کا اجماع ہو چکا ہے کسی ایک شخص نے بھی اس کے خلاف نہیں کہا۔میں کہتا ہوں کہ ان کا یہ دعوی سرا سر غلط ہے کیونکہ اس اصول میں کہ اسلام میں محض ارتداد کے لئے کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں کی گئی۔ائمہ فقہ حنفیہ کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے اور انہوں نے اس اصل کو تسلیم کیا ہے کہ ارتداد کی سزا قتل نہیں بلکہ قتل کی سزا محارب ہونے کی وجہ سے دی جاتی ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ ان کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ایک شخص واحد نے بھی قتل مرتد سے اختلاف نہیں کیا۔کیونکہ مسلمانوں میں بعض ایسے محقق گزرے ہیں جنہوں نے اس عقیدہ سے کھلے طور پر اختلاف کیا ہے اور ان کی رائے ہے کہ مرتد کو قتل نہ کیا جائے بلکہ ان کوتو بیہ کی مہلت دی جائے یہانتک کہ وہ اس دنیا سے اپنی طبعی موت سے گزرجائیں۔حافظ ابن قیم کا قول خود مولوی شبیر احمد صاحب نے پیش کیا ہے اور وہ اس بات کے قائل نہیں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔اسی طرح میں تفاسیر کے حوالجات سے اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ بعض ایسے علماء گزرے ہیں جو قتل مرتد کے قائل نہ تھے۔اسی طرح ابراہیم نخعی اور سفیان ثوری کا یہی مذہب ہے اور یہ لوگ کوئی چھوٹے پایہ کے انسان نہیں چنانچہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ