قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 263 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 263

263 (۴) پھر عنائیہ میں صفحہ 390 پر لکھا ہے:۔لاقتل الا باحراب فكان القتل مستلزم للحراب لان نفس الكفر ليس يهيج له ولهذا لا يقتل الأعمى والمعقد والشّيخ الفاني۔یعنی حراب کے بغیر کوئی قتل نہیں۔پس قتل حراب کے لئے مستلزم ہے کیونکہ تنہا کفر کی وجہ سے کسی کو قتل کرنا جائز نہیں اور یہی وجہ ہے کہ نابینا اور شیخ فانی اور معذور کو قتل نہیں کیا جاتا۔(۵) اب دیکھئے کہ اُس حدیث کے اہل فقہ حنفیہ نے کیا معنی کئے ہیں جس کو آج قتل مرتد کے دعویدار بڑے زور شور سے پیش کر رہے ہیں۔یعنی یہ حدیث من بدل دينه فاقتلوه فتح القدیر جلد 2 صفحہ 580 میں لکھا ہے: "كذا قوله الله من بدل دينه فاقتلوه لانه كافر حربى بلغته الدعوة فيقتل للحال من غيرا لتمهال، يعنى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے جو شخص اپنے دین کو بدل دے اُس کو قتل کر دو۔اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ حربی کافر ہے اور اُس پر اتمام حجت ہو چکا ہے پس ایسے شخص کو فوراً قتل کر دینا چاہئے۔اور مہلت نہیں دینی چاہیئے۔دیکھو اس حدیث میں بھی فقہاء حنیفہ کے نزدیک ایسا ہی مرتد مراد ہے جو حربی ہو اور اُس کے قتل کی وجہ اُس کا ارتداد نہیں بلکہ اُس کا حربی ہونا ہے۔میرے خیال میں مندرجہ بالا حوالجات سے صاف ظاہر ہے کہ فقہ حنفیہ کے ائمہ اس اصول میں کلیۂ ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں اور کسی مرتد کو اس لئے قتل کرنا جائز نہیں کہ اُس نے ارتداد اختیار کیا ہے بلکہ قتل کی وجہ اُس کا محارب ہونا ہے۔اور یہی ہمارا اصول ہے جس کو میں نے اس مضمون میں بفضلہ قرآن شریف اور سنت رسول اور سُنت خلفاء راشدین کے ذریعہ ثابت کیا ہے۔اس جگہ قتل مرتد کے دعویدار یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اصول صرف حنفیوں کے نزدیک