قتل مرتد اور اسلام — Page 259
259 پیروی کرتے ہیں جنہیں قیاس کا دخل نہ ہو اور اگر وہ امراجتہاد سے تعلق رکھتا ہے تو پھر صحابی کی تقلید ضروری نہیں سمجھتے۔اور یہ دونوں صحابی وہ ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت کرتے وقت ہدایت دی تھی کہ اگر کوئی بات تم قرآن وسنت میں نہ پاؤ تو اجتہاد کر لینا۔اس ہدایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے اس موقع پر اجتہاد سے کام لیا ہے اور اجتہادی امور میں مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی کسی صحابی کے قول یا فعل کو حجت نہیں سمجھتا۔نیز یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یہ نہیں فرمایا کہ جو بات قرآن میں نہ ہو اُس کے متعلق اجتہاد کر لینا بلکہ فرمایا کہ جو بات تم قرآن میں نہ پاؤلے اُس کے بارے میں تم اجتہاد سے کام لینا یہ الفاظ بھی پُر حکمت ہیں۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک بات معاذ اور ابو موسیٰ کو قرآن شریف میں نہ ملتی تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اُس کے متعلق قرآن شریف میں کوئی ہدایت موجود ہی نہ تھی۔پس اس صورت میں اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے محض ارتداد کی وجہ سے ایک مرتد کو قتل کر دیا تو اُن کے اس فعل کی وجہ سے آپ کے ہی دواوین فقہ وحدیث ہم کو پابند نہیں کرتے کہ ہم یہ مان لیں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔خصوصاً جب ایسا حکم قرآن شریف کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے اور نیز اُس وصیت کے خلاف ہے جو آنحضرت حامیان قتل مرتد نے ایک روایت یہ بھی پیش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو فرمایا کہ ایک مرتد مرد و عورت کو قتل کر دینا۔اس کے متعلق حاشیہ ھدایہ مولوی محمد سنبلی جلد 2 صفحہ 353 میں لکھا ہے سندہ لیس بقوى في رجاله کلام یعنی اس روایت کی سند قوی نہیں اس کے راوی محل اعتراض ہیں علاوہ ازیں یہ حدیث صحیح حدیثوں کے مخالف ہے جن میں عورت کو قتل کرنے کی صریح مخالفت موجود ہے۔اور فقہائے حنفیہ کا عمل بھی اس روایت کے خلاف ہے۔