قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 258 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 258

258 ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان جلیل القدر صحابیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو پس پشت ڈال دیا۔اگر ایک شخص کو اس لئے قتل کیا جائے کہ اس نے اسلام کو کیوں ترک کیا تو اس سے نہ صرف ایسے شخص کے دل میں نفرت پیدا ہوگی جس نے اسلام کو ترک کیا بلکہ اس سے دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی نفرت پیدا ہوگی اور کوئی شخص بھی ایسے مذہب کو پسند نہیں کرے گا جس کے ترک کرنے کی سزا قتل ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت ایک طرف تو اس عقیدہ کی تردید کر رہی ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے اور اگر اس وصیت کے کچھ معنی ہیں تو پھر اسلام میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہوسکتی۔اور دوسری طرف یہی وصیت یہ بھی ثابت کر رہی ہے کہ وہ صحابی اس وصیت کی موجودگی میں کسی شخص کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ایسا کرنا اُس وصیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔پس اس حدیث میں اس وصیت کا موجود ہونا یہ ثابت کر رہا ہے کہ اُس شخص کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس فتنہ کی وجہ سے قتل کیا گیا جو اس زمانہ میں ملک یمن میں پیدا ہو گیا تھا۔پنجم۔اگر مولوی صاحبان کو ان سب باتوں سے انکار ہو اور ان کو اسی بات پر اصرار ہو کہ اُس شخص کو حضرت معاذ نے محض ارتداد کے لئے قتل کیا تو ایسی صورت میں اُن سے کہوں گا کہ اچھا میں تسلیم کر لیتا ہوں کہ حضرت معاذ نے ایسا ہی کیا مگر مجھے بتاؤ کہ ایسی صورت میں تمہارے دواوین حدیث و فقہ کیا فتوی دیتے ہیں۔کیا شریعتِ اسلام میں یہ ایک مسلم اور متفقہ مسئلہ ہے کہ ایک صحابی کا فعل حجت شرعیہ سمجھی جاتی ہے۔کیا تم مجھے دکھا سکتے ہو کہ اہل اسلام میں متفقہ اور متحدہ طور پر یہ امر مسلم ہے کہ ہر ایک صحابی کا ہر ایک فعل ایک حجت شرعی ہے۔کیا آپ لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ اہلحدیث کے نزدیک صحابی کا قول و فعل حجت شرعیہ نہیں۔کیا آپ نہیں جانتے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ صحابی کے قول و فعل کو ہر گز حجت نہیں سمجھتے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اہل فقہ حنفیہ صرف ایسے امور میں فعل صحابی کی