قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 228 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 228

228 میں بہت بڑی طاقت اور قوت ہے۔اگر ناظرین تفصیل واران قوموں کے حالات جن پر حضرت ابو بکر نے لشکر اُسامہ کی واپسی کے بعد فوج کشی کی کتب تاریخ میں مطالعہ فرما دیں تو اُن پر روز روشن کی طرح یہ امر ظا ہر ہو جائے گا کہ یہ قو میں صرف ارتداد کی مرتکب نہیں ہوئی تھیں بلکہ ان سب قوموں نے سلطنت اسلام کے خلاف بغاوت اختیار کی تھی اور اگر ان پر فوج کشی نہ کی جاتی تو یہ لوگ اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ مسلمانوں کا نام ونشان دنیا سے مٹادیں۔روز بروز ان کی جمعیت بڑھتی جاتی تھی اور اگر ان اقوام کو کچھ مزید مہلت مل جاتی تو ان کی جمعیت اس قدر مضبوط ہو جاتی اور ان کا حوصلہ اس قدر بڑھ جاتا کہ تمام گردو نواح کے مسلمانوں کو تہ تیغ کر کے آخر مدینہ پر حملہ آور ہوتے۔پس ضروری تھا کہ مسلمان ان پر حملہ آور ہو کر ان کی جمعیت کو توڑتے اور اس آگ کو جو تمام اطراف میں پھیل کر مسلمانوں کی ہستی کو خطرہ میں ڈال رہی تھی بجھا دیتے۔ہر ایک شخص جو تاریخ سے کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے اس بات کو تسلیم کرے گا کہ اگر اس وقت حضرت ابوبکران مرتد اقوام کے ساتھ قتال نہ کرتے تو آج نہ اسلام نظر آتا اور نہ مسلمانوں کا وجود پایا جاتا۔میں یہاں ان تمام قبائل کی کارروائیاں الگ الگ نقل نہیں کر سکتا۔صرف عینی کی شہادت پر اکتفا کرتا ہوں جو اُس نے تمام قبائل کے متعلق مجموعی طور پر دی ہے۔عینی میں لکھا ہے:۔وانما قاتل الصديق مانعى الزكوة لأنهم امتنعوا بالسيف ونصبوا الحرب للامة۔( عینی جلد 11 صفحہ 236) یعنی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰۃ سے اس لئے قتال کیا کہ اُنہوں نے تلوار کے ذریعہ سے زکوۃ کو روکا اور مسلمانوں کے لئے جنگ برپا کی۔اس شہادت سے ظاہر ہے کہ جنگ کی ابتدا مانعین زکوۃ کی طرف سے ہوئی۔یعنی نہ صرف ان لوگوں نے زکوۃ کے ادا کرنے سے انکار کیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف خود ہی