قتل مرتد اور اسلام — Page 227
227 لئے واہیات باتیں پیش کر رہے ہو۔کچھ تو اپنی مولویت کے نام کی شرم کرنی چاہئیے۔میں اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایسی قوموں کی گوشمالی کے لئے لشکر مختلف اطراف میں روانہ کریں ان میں سے بعض نے بغیر حضرت ابوبکر کے حملہ کے خود بخود مدینہ پر حملہ کیا۔اس سے ناظرین ان مرتدین کے ارادوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔لیکن دو وجہوں سے عام طور پر مرتدین مدینہ پر چڑھائی کرنے سے ڑکے رہے۔ایک وجہ یہ تھی کہ جن اقوام نے مدینہ پر حملہ کیا اُن پر حضرت ابو بکر اور آپ کے ساتھیوں نے نہایت شجاعت اور دلیری سے حملہ کر کے اُن کو منتشر کر دیا۔اس سے دوسری قوموں پر مسلمانوں کا رُعب قائم ہو گیا۔دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر معا لشکر اُسامہ کے روانہ ہو جانے سے یہ ایک بڑا بھاری فائدہ پہنچا کہ عرب کی اقوام نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ مسلمانوں کی طاقت بہت زبر دست اور قوی ہے تب ہی تو انہوں نے عرب کے مرتدین کی کچھ پرواہ نہیں کی اور بلا کسی خوف کے ایک بھاری لشکر ملک شام کی طرف روانہ کر دیا ہے۔صاحب تاریخ الکامل لکھتے ہیں۔وكان انفاذ جيش اسامة اعظم الامور نفعًا للمسلمين فان العرب قالوا لولم يكن بهم قوّة لما أرسلوا هذا الجيش فكفّوا عن كثير ما كانوا يريدون ان يفعلوه۔تاریخ الکامل جلد 2 صفحہ 139 ) یعنی لشکر اسامہ کے بھیجا جانے سے مسلمانوں کو بہت ہی بڑا فائدہ پہنچا کیونکہ عرب قوموں نے کہا کہ اگر مسلمانوں میں طاقت اور قوت نہ ہوتی تو وہ ایسے وقت میں اس لشکر کوروانہ نہ کرتے۔پس اس خیال سے وہ اپنے بہت سے بدا را دوں سے رُک گئے۔اس حوالہ سے بھی صاف ظاہر ہے کہ تمام مرتد قبائل مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔اور صرف اس وجہ سے رُک گئے کہ لشکر اُسامہ کی روانگی سے انہوں نے نتیجہ نکالا کہ مسلمانوں