قتل مرتد اور اسلام — Page 212
212 یعنی خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرو۔خیانت نہ کرو۔نہ بد عہدی کرو۔نہ کسی مقتول کے ہاتھ پاؤں ناک، کان وغیرہ کاٹو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور نہ کسی عورت کو قتل کرو۔پس مرتد ہ عورت کو نہ قتل کرنے کا حکم بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہاں بھی وہی صورت ہے جو عام جنگ میں ہوتی ہے اور مرتدہ کو اس لئے مستثنی کیا ہے کہ وہ محاربہ نہیں ہو سکتی۔پس ثابت ہوا کہ صرف مرتد محارب کو قتل کرنے کا حکم ہے نہ عام مرتدین کو۔یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص حدیث مندرجہ بالا پر ابوحنیفہ کے متفرد ہونے کا اعتراض کرے تو غلط ہے کیونکہ اس حدیث کو عبدالرزاق نے الشورى عن عاصم کے طریق سے بیان کیا ہے۔(ملاحظہ ہو مصنف عبدالرزاق۔کتاب القصاص) (۲) دارقطنی نے بھی اس حدیث کو ابی مالك النخعي عن عاصم کے طریق سے نقل کیا ہے۔(ملاحظہ ہو کتاب الحدود صفحہ 338) (۳) دارقطنی نے اس حدیث کو شیبہ عن عاصم کے طریق سے بیان کیا ہے۔كتاب الحدود صفحه (338) (۴) نیز ابن ابی شیبہ نے اسی حدیث کو روایت کیا ہے عن وکیع عن ابی حنیفۃ۔(تعليق المغنى شرح دار قطنی صفحہ 338) نتیجہ مذکورہ بالا کی صحت کی چھٹی کسوٹی یہ ہے کہ جیسے قتل مرتد کے متعلق بعض احادیث موجود ہیں جن کے ساتھ محاربہ کی شرط ہے ایسا ہی بعض ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن میں مرتد کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے۔عبدالرزاق نے مختلف احادیث عدم قتل مرتد کے بارہ میں عطاء حسن۔اور براہیم التھی سے نقل کی ہیں (دیکھو ھدایہ حاشیہ جلد 2 صفحہ 354 باب فی احکام المرتدین )۔اور ابراہیم مخفی جو ایک مشہور فقیہ ہیں بعض دیگر علماء کی طرح قتل مرتد کے مخالف ہیں۔