قتل مرتد اور اسلام — Page 211
211 ہے جو محارب ہو اور جو نتیجہ حادیث کو یکجائی نظر سے دیکھنے پر نکالا گیا ہے وہی نتیجہ صحیح اور درست ہے۔اس جگہ یہ امر بھی ذکر کر دینے کے قابل ہے کہ آیت کریمہ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ مکی آیت ہے۔اور مفسرین بالحق کی تفسیر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول نقل کرتے ہیں جس میں تین قسم کے لوگوں کے قتل کا ذکر ہے اور جن میں سے ایک مرتد محارب ہے۔پس معلوم ہو ا کہ مرتد محارب کے قتل کا حکم گویا مکہ میں ہی نازل ہو چکا تھا۔اس لئے جن مرتدین کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں قتل نہیں کیا۔ان کی نسبت یہ عذر نہیں ہوسکتا کہ ابھی قتل مرتد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔اس نتیجہ کی صحت کی پانچویں کسوٹی یہ ہے کہ حضرت ابن عباس آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مرتدہ کوقتل نہ کیا جاوے۔روى ابو حنيفة عن عاصم عن ابى رزين عن ابن عباس لا تقتل النساء اذا من ارتددن عینی شرح بخاری جلد 11 صفحہ 232 اگر محض ارتداد قتل کا موجب ہوتا تو عورت ومردونوں مساوی سمجھے جانے چاہئیے تھے کیونکہ ارتداد میں دونوں یکساں ہیں۔عورت کو قتل سے مستثنی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں بلکہ قتل کی سزا محارب ہونے کی وجہ سے دی جاتی تھی اور چونکہ عورتیں عموماً محارب نہیں ہوتیں اس لئے ان کو قتل سے مستثنیٰ کیا گیا ہے جس طرح عام جنگ کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو مستثنی فرمایا۔آپ جب کسی لشکر کولڑائی کے لئے روانہ فرماتے تو رخصت کرتے وقت آپ فرماتے :۔اغزوا بسم الله في سبيل الله تقاتلون من كفر بالله لا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا ولا امرءة۔(مؤطا امام مالك كتاب الجهاد باب النهي عن قتل النساء والولدان في الغزو)