قتل مرتد اور اسلام — Page 213
213 " پس جب دونوں قسم کی احادیث موجود ہیں تو ان میں تطبیق کی راہ یہی ہے کہ قتل مرتد کو اُس شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے جو بعض احادیث میں صراحۃہ موجود ہے یعنی محارب ہونے کی شرط۔میں ناظرین کی توجہ کو ان احادیث کی طرف خصوصیت کے ساتھ پھیرتا ہوں جو عبدالرزاق نے عدم مقتل مرتد کے بارے میں نقل کی ہیں۔کیونکہ یہ احادیث حامیان قتل مرتد کے اس دعوای کو پاش پاش کر دیتی ہیں جو کہتے ہیں کہ احادیث میں ہر ایک مرتد کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب احادیث پر بھی یکجائی نظر ڈالی جائے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ صرف ایسے مرتدین کے قتل کا حکم ہے جو محارب ہوں اور اُن کے لئے قتل کی سزا ارتداد کی وجہ سے مقرر نہیں کی گئی بلکہ محارب ہونے کی وجہ سے۔اور تاریخ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد بھی اُسی کے مطابق تھا اور یہی راہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہے۔اب بھی اگر کوئی شخص اپنے اسی اسرار پر قائم رہے کہ محض ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل ہے تو ایسا شخص انصاف سے کام نہیں لیتا بلکہ ضد سے کام لیتا ہے اور ایسے شخص کو ہم حوالہ خدا کرتے ہیں۔حق کھل جانے کے بعد بھی جو شخص اس غلط عقیدہ پر قائم رہتا ہے تو وہ عمداً اسلام کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتا ہے۔ہم پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ہم قرآن شریف کو مقدم ٹھہرا کر اور اُس کو معیار صحت قرار دے کر دو اوین حدیث کی ہتک کرتے ہیں۔ہم دواوین حدیث کی ہتک نہیں کرتے بلکہ اُن کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دیکھو یہ دواوین حدیث ہی کی برکت ہے کہ ہم نے حدیث کے میدان میں بھی مدعیان قتل مرتد کو شکست دی۔جن ہتھیاروں سے ہم نے اس میدان میں مولوی صاحبان کو شکست دی ہے وہ اسی اسلحہ خانہ سے ہمیں میسر ہوئے ہیں جو مد و نین حدیث نے ہمارے لئے تیار کر رکھا ہے۔پس ہم ان محمد ثین کا تہ دل سے شکریہ