قتل مرتد اور اسلام — Page 199
199 ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سرح کو اس لئے معاف کیا کہ وہ تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہونا چاہتا تھا۔مگر یہ عذر بالکل غلط ہے کیونکہ اول تو آپ نے ان تینوں میں سے کسی کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ تائب ہوکر اپنی جان بچالے۔اگر آپ ایسا موقع دیتے تو یقینا تینوں بڑی خوشی سے ایسے موقع سے فائدہ اٹھاتے۔پس آپ کا ان کے متعلق قطعی حکم نافذ کرنا استنا بہ کی طرف رجوع نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ارتداد ان کا جرم نہ تھا بلکہ جیسا کہ زرقانی نے لکھا ہے ان کا جرم یہ تھا کہ ان تینوں نے بھی اسلام کو اور اہل اسلام کو اسی طرح تکلیف اور دکھ دیا تھا جیسا کہ حویرث نے جس کو آپ نے ان کے ساتھ شامل کیا۔دوسری اگر آپ نے اس کی تو بہ کی وجہ سے معاف کیا تھا تو پھر آپ معافی دینے سے پہلے بہت دیر تک کیوں خاموش رہے؟ اور آپ کیوں اس امر کا انتظار فرماتے رہے کہ آپ کے صحابہ میں سے کوئی شخص اٹھے اور اس کا سر تلوار سے کاٹ دے؟ آپ کو چاہئیے تھا کہ فوراً اس کو معاف کر دیتے۔اور اگر کوئی صحابی اس کو قتل کرنے کیلئے اٹھتا تو اس پر سخت ناراض ہوتے (جیسا کہ ایسے موقعوں پر آپ ہمیشہ قتل کرنے والوں پر سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے) نہ یہ کہ خود انتظار فرماتے کہ کوئی صحابی اس کو قتل کر دے۔آپ نے قتل کا حکم صرف ارتداد کی وجہ سے دیا تھا اور اُس سے اور کوئی شرظاہر نہیں ہوئی تھی تو پھر تو چاہئے تھا کہ آپ اُس کے تائب ہونے پر فوراً اُس کو معاف کر دیتے اور اگر کوئی صحابی اسے قتل کرنا چاہتا بھی تو اُس پر سخت ناراض ہوتے نہ یہ کہ آپ بہت دیر تک خاموش رہتے اور اس امر کی انتظار میں رہتے کہ کوئی صحابی اُٹھے اور اسے قتل کر دے۔اگر عبداللہ بن ابی سرح اور اُس کے ساتھیوں سے صرف ارتداد کا ہی ظہور ہوا تھا اور یوں وہ بالکل بے قصور تھے تو پھر تو چاہئیے تھا کہ حسب قول حامیان قتل مرتد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم صحابہ کو یہ حکم دیتے کہ ان کو تو بہ کیلئے ترغیب دی جائے اور اسلام کی خوبیوں کی ان کو تلقین کی جائے اور ان کو بتایا جائے کہ اگر تم دوبارہ اسلام میں داخل نہیں ہو گے تو تمہیں قتل کیا