قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 198 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 198

198 ہوا اور نہ اس سے متوقع تھا۔اس تلاش میں ان کو ایسی مثالیں تو ضرور ملیں گی جب کہ آپ نے مرتدین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور ان سے کسی قسم کا تعارض نہ کیا۔اور ایسے مرتدین کی مثالیں بھی ان کو ملیں گی جبکہ آپ نے بعض مرتدین کو قتل کرایا مگر نہ ان کے ارتداد کی وجہ سے بلکہ ان کے دوسرے جرائم کی وجہ سے لیکن ان کو ایک بھی ایسی مثال نہ ملے گی جس سے یقینی طور پر یہ ثابت ہو کہ آپ نے کسی ایک فرد واحد کو بھی اس لئے قتل کی سزادی ہو کہ اس نے محض ارتداد کا ارتکاب کیا اور اس کے وجود سے اور کسی قسم کا خطرہ اسلام کو اور مسلمانوں کو نہیں تھا۔یہ میری طرف سے ایک چیلنج ہے اگر حامیان قتل مرتد میں طاقت ہے تو اٹھیں اور میرے اس چیلنج کو قبول کریں۔اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر وہ کیوں اپنے خیالات باطلہ کی بناء پر اسلام جیسے پاکیزہ دین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مبارک وجود کو بد نام کر رہے ہیں۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت گیارہ بارہ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا جن میں سے تین مرتد تھے لیکن ان کے قتل کے حکم کی یہ وجہ نہ تھی کہ وہ مرتد تھے بلکہ اس حکم کی وجہ ان کی دوسری شرارتیں تھیں۔ان مرتدین اور ایک چوتھے شخص حویرث کے قتل کے حکم کا ذکر کرتے ہوئے زرقانی لکھتا ہے۔خصهم بالذكر لشدّة ما وقع منهم اذى الاسلام واهله (صفحہ 321 جلد 2) یعنی (جیسا کہ ایک روایت میں ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار شخصوں کا خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ ان کی طرف سے اسلام کو اور مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی تھی۔پس معلوم ہوا کہ جب دوسروں کے ساتھ ان تین مرتدین کے قتل کا حکم دیا گیا تو اس کی وجہ ان کا ارتداد نہ تھا بلکہ اس حکم کی یہ وجہ تھی کہ ان کی طرف سے اسلام کو اور مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ بہت تکلیف اور دکھ پہنچ چکا تھا۔