قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 200 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 200

200 جائے گا۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ بغیر کسی شرط کے اُن کے متعلق قتل کا حکم جاری کیا گیا۔پس معلوم ہوا کہ ان کا جرم جس کی وجہ سے اُن کے متعلق ایسا حکم نافذ کیا گیا ارتداد نہ تھا بلکہ وہ اپنے دوسرے افعال اور رویہ کی وجہ سے مستوجب قتل ہو چکے تھے۔اور عبداللہ بن ابی سرح کو اس لئے معاف نہیں کیا گیا کہ وہ تائب ہو کر آیا تھا بلکہ اس لئے کہ حضرت عثمان نے اُس کو پناہ دی تھی اور اُس کے لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے معافی کی درخواست کی تھی۔جیسا کہ لکھا ہے۔فاستجار له عثمان بن عفان رضی الله عنه فاجاره النبی صلی الله عليه وسلم۔(روح المعانی جلد 4 صفحہ 484) عبداللہ بن ابی سرح کی ایک شرارت کا روایات کی رو سے قرآن شریف میں بھی ذکر ہے۔کیونکہ آیت سـانـزل مثل ما انزل اللہ کا شان نزول یہی عبداللہ بن ابی سرح بتایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا جاری رکھتا تھا اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت اور حقارت کو ملک میں پھیلا تا تھا اور اسلامی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کرتا تھا۔حامیان قتل مرتد اس بات سے تو عاجز آگئے ہیں کہ کوئی ثابت شدہ تاریخی واقعہ ایسا پیش کریں جس سے یہ ظاہر ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ارتداد کی وجہ سے کسی کو قتل کروایا۔مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ڈوبنے والا انسان ایک تنکہ پر بھی ہاتھ مارتا ہے کہ شائد اسی کے سہارے سے وہ غرق ہونے سے بچ جائے۔چنانچہ موجودہ صورت میں بھی حامیان قتل مرتد نے بھی ایسا ہی اضطراب دکھایا ہے اور اپنے دعوئی کو ثابت کرنے کیلئے جو چیز بھی سامنے آئی ہے اُس پر ہاتھ مارا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ ان کے لئے کسی سہارے کا موجب ہو سکے۔کسی مرد کے متعلق تو ان کو ضعیف سے ضعیف روایت بھی نہیں ملی جس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ محض ارتداد کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو قتل کی