قتل مرتد اور اسلام — Page 197
197 کے ارتکاب کے بعد وہ دشمنوں سے جاملے۔یہی ان کا ارتداد تھا انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے دشمنوں میں جا کر شامل ہو گئے یا شامل ہونے کی کوشش کی۔ان کے اس فعل کا نام مؤرخین نے ارتداد رکھا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اگر ارتداد اسی چیز کا نام ہے تو ہمیں اس امر سے ذرا بھی اختلاف نہیں کہ ایسے مرتد کی سزا بے شک قتل ہے۔ایک شخص پہلے مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہے وہاں قتل کا جرم کر کے وہ دشمن کے لشکر کی طرف بھاگتا ہے اور آئندہ وہ ہر موقع پر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے اور موقع پا کر مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے تیار ہے اور مسلمانوں کا کھلم کھلا دشمن ہے ایسا مرتد بے شک قابل ہے کہ اس کو قتل کیا جاوے لیکن اگر یہ کہا جاوے کہ ایک شخص شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر اسلام سے منحرف ہوتا ہے اور کوئی اور دین اپنے لئے اختیار کرتا ہے مگر اختلاف رائے سے بڑھ کر اس کو اسلام کے ساتھ کوئی مخالفت نہیں ایسے مرتد کی سزا بھی اسلام میں قتل مقرر کی گئی ہے تو ہم ایسے عقیدہ کی بڑے زور کے ساتھ مخالفت کریں گے کیونکہ یہ عقیدہ سراسر باطل اور جھوٹ ہے اور اسلام کے پاک دین کو بدنام کرنے والا ہے اور ہم ڈنکے کی چوٹ کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے محض ارتداد اور تنہا ارتداد کے لئے کسی کو قتل کی سزا دی ہو۔اس باطل عقیدہ کے حامی بے شک ایڑیوں تک زور لگا لیں وہ اسلامی تاریخ سے ایک بھی ایسا ثابت شدہ واقعہ پیش نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو محض اس لئے قتل کی سزا دی کہ وہ شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور اختلاف رائے سے بڑھ کر اس کو اسلام کے ساتھ کوئی مخالفت نہیں تھی۔حامیان قتل مرتد اپنے تمام اعوان وا کا بر کے ساتھ مل کر جس قدر چاہیں تاریخ اسلام کے اوراق کی ورق گردانی کریں ان کو ایک بھی ایسی مثال نہیں ملے گی جس سے یہ امر قطعی اور حتمی طور پر پایہ ثبوت تک پہنچ جائے کہ آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو قتل کرایا جس سے سادہ ارتداد کے سوا اور کوئی شرنہ سرزد