قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 180 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 180

180 یعنی فتح کے دن آپ نے عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم دیا۔حضرت عثمان نے اس کو اپنی پناہ میں لے لیا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو پناہ دے دی اور معاف کر دیا۔روح المعانی جلد ۴ صفحہ ۴ ۴۸ پر لکھا ہے۔كان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم فازله الشيطن فلحق بالكفّار فامر به النبي صلى الله عليه وسلم ان يقتل يوم فتح مكة فاستجارله عثمان بن عفان رضی الله عنه فاجاره النبي صلى عليه وسلم۔" الله یعنی وہ پہلے کاتب وحی تھا۔پھر شیطان نے اس کو بہکا دیا اور وہ کافروں سے جاملا۔فتح مکہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنی پناہ میں لے لیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو پناہ دے دی۔اب عبد اللہ بن ابی سرح کا واقعہ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں ارتداد کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہیں کی گئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم اس لئے نہیں دیا تھا کہ وہ مرتد تھا بلکہ اس لئے کہ وہ ایک پولیٹیکل مجرم تھا۔کیونکہ (۱) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا عبد اللہ بن ابی سرح کو اپنے گھر میں پناہ دینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس کو پولیٹیکل جرم کی وجہ سے قتل کا حکم دیا گیا تھانہ ارتداد کی وجہ سے۔کیونکہ اگر قتل کے حکم کی وجہ ارتداد ہوتا اور ارتداد کے لئے قتل شرعی حد ہوتی تو حضرت عثمان کبھی اس کو شرعی حد سے بچانے کے لئے کوشش نہ کرتے۔کیا ناظرین خیال کر سکتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص زنا کا ارتکاب کرتا یا سرقہ کا مرتکب ہوتا تو حضرت عثمان ایسے شخص کو شرعی حد سے بچانے کے لئے اپنے ہاں پناہ دیتے؟ ہرگز نہیں۔پس اگر عبد اللہ بن ابی سرح کو ارتداد کی وجہ سے قتل کا حکم دیا گیا تھا اور ارتداد کیلئے