قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 181 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 181

181 شرعی حدقتل مقرر تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جیسا انسان کبھی ایسے شخص کو شرعی حد سے بچانے کے لئے اپنے گھر میں پناہ نہ دیتا اور کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ سفارش نہ کرتے کہ اس مرتد پر شرعی حد جاری نہ کی جائے۔(۲) اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو اپنے ہاں پناہ دی جو ایک شرعی حد کا سزاوار ہو چکا تھا اور اس کو شرعی حد سے بچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی سفارش کی۔تو یہ کبھی بھی گمان میں نہیں آسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شرعی حد کے متعلق کسی کی بھی سفارش قبول فرماتے۔یہ ایک ثابت شدہ اور یقینی امر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شرعی حد کے نفاذ کے وقت کسی کی بھی سفارش نہیں سنتے تھے اور اگر کوئی شخص کسی ایسے مجرم کی سفارش کرتا جس پر شریعت کی حدوارد ہوتی تو ایسے سفارش کرنے والے پر بھی آپ ناراض ہوتے۔اس مخزومی عورت کا واقعہ یاد کرو جس نے چوری کا ارتکاب کیا۔میں یہاں اس واقعہ کو حضرت عائشہؓ کے الفاظ میں صحیح بخاری سے نقل کرتا ہوں:۔عن عائشة ان قريشا اهمتهم المرأة المخزومية التي سرقت قالوا من يكلم رسول صلى الله عليه وسلم و من يجترئ اليه الا اسامة ابن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أتشفع فى حد من حدود الله ثم قام فخطب فقال ايها الناس انّما ضلّ من قبلكم انهم كانوا اذا سرق الشريف تركوه واذا سرق الضعيف فيهم اقاموا عليه الحد وأيم الله لو ان فاطمة بنت محمد صلى الله عليه وسلم) سرقت لقطعت يدها۔( بخاری ہندی صفحہ 1003 ) " یعنی قریش کو اس مخزومی عورت کی وجہ سے بہت فکر ہوا جس نے چوری کی تھی۔انہوں