قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 179 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 179

179 جس طرح کہ ایک تنکا تیز ہوا کے سامنے اُڑ جاتا ہے میں ذیل میں پیش کرتا ہوں۔اور ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کس طرح وہ واقعہ جس کو میں ابھی بیان کروں گا روز روشن کی طرح اس امر کو ثابت کر دیتا ہے اور اس میں ذرہ بھی شک نہیں رہتا کہ ارتداد کے لئے اسلام میں کوئی شرعی حد مقرر نہیں کی گئی۔یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سرح کا ہے۔وہ مدینہ میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی تھا مرتد ہو کر کفار سے جاملا۔فتح مکہ کے وقت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے سب کو معافی دے دی سوائے چند آدمیوں کے جن کی تعداد دس بارہ سے زیادہ نہ تھی۔ان چند آدمیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم دیا۔ان میں عبد اللہ بن ابی سرح کا نام بھی تھا۔یہ حضرت عثمان بن عفان کا رضاعی بھائی تھا۔حضرت عثمان نے اس کو اپنے ہاں پناہ دے دی اور وہ ان کے گھر میں چھپا رہا۔جب امن ہو گیا تو حضرت عثمان نے اس کی سفارش کی۔ان کی سفارش پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک خاموش رہے۔اس کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا۔جب عبد اللہ بن ابی سرح چلا گیا تو آپ نے صحابہ کو فرمایا کہ جب میں نے معافی دینے میں دیر کی تھی تو تم نے اس کو قتل کیوں نہ کر دیا ؟ صحابہ نے عرض کیا۔آپ اشارہ فرما دیتے تو ہم اس کو قتل کر دیتے۔آپ نے فرمایا وان الـنـبـي لا ينبغي ان تكون لـه خائنة الاعین“ یعنی یہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ آنکھوں کی خیانت سے کام لے۔تفسیر کبیر میں عبداللہ بن ابی سرح کی نسبت لکھا ہے۔فلـمـا كـان يـوم الفتح امر النبي صلى الله عليه وسلم بقتله فـاسـتـجـارلـه عثمان فأجاره رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انه اسلم وحسن اسلامه ( تفسیر کبیر لفخر الدین رازی جلد 5 صفحہ 527)