قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 165 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 165

165 ہوں کہ یہ گمان بھی نہ ہو سکے کہ ان سب نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا ہے اور یہی شرائط برابران راویوں کی جماعت میں بھی پائی جائیں جنہوں نے اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔اس قسم کی احادیث کی متعلق کہا گیا ہے کہ یہ علم یقین کا فائدہ دیتی ہیں مگر ان کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔علاوہ ازیں اگر کوئی حدیث تواتر کے درجہ پر بھی ہو، تاہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں۔دوسری قسم احادیث کی مشہور کہلاتی ہے۔اس کی تعریف لکھی ہے: - هو ما كان من الاحاد في الاصل ثم انتشر فصار ينقله قوم لا يتوهم تواطؤهم على الكذب وهم القرن الثانى ومن بعدهم۔یعنی دراصل مشہور حدیث بھی احاد میں سے ہی ہے مگر اس میں اور عام احادیث احاد میں یہ فرق ہے کہ یہ بعد میں یعنی قرن ثانی و قرن ثالث میں زیادہ لوگوں میں پھیل گئی اور ان بعد کے لوگوں کی تعداد ایسی کثیر ہو کہ ہم یہ گمان نہ کر سکیں کہ انہوں نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا۔ان احادیث کا درجہ متواتر سے کم ہے اور یہ علم یقین کا فائدہ نہیں دیتیں۔حسامی میں لکھا ہے کہ لكنه لما كان من الاحاد في الاصل ثبت به شبهة سقط بها علم الیقین یعنی چونکہ ابتدا میں یہ احادیث بھی آحاد میں سے ہی تھیں اس لئے ان میں شبہ ثابت ہے اور اس شبہ کی وجہ سے یہ احادیث یقین کا فائدہ نہیں دیتیں۔احادیث کی اس قسم کی نسبت اصول شاشی میں لکھا ہے فیه ضرب شبهة یعنی اس قسم کی احادیث میں ایک قسم کا شبہ پایا جاتا ہے۔تیسری قسم احادیث کی آحاد ہے۔اس کی تعریف یہ ہے۔خبر الواحد هو ما نقله واحد عن واحد او واحد عن جماعة او جماعة عن واحد ولا عبرة للعدد اذا لم تبلغ حد المشهور یعنی خبر واحد وہ ہے جس کو ایک آدمی نے ایک آدمی سے یا ایک آدمی نے ایک جماعت سے یا ایک جماعت نے ایک آدمی سے نقل کیا ہو اور کثرت تعداد کا کوئی اعتبار نہیں جب تک کہ وہ مشہور کی کثرت تعداد سے کم ہو۔اکثر