قتل مرتد اور اسلام — Page 166
166 احادیث اسی قسم میں داخل ہیں۔یہاں تک کہ صحیح بخاری کی احادیث کا اکثر حصہ بھی احاد کی قسم سے ہے۔اور وہ احادیث بھی جن کو اس بحث میں پیش کیا گیا ہے اس تیسری قسم کی حدیثوں میں شامل ہیں۔اس قسم کی نسبت اصول شاشی میں لکھا ہے۔فیه احتمال شبهة یعنی ان میں شبہ کا احتمال ہے۔اس تقسیم سے صاف ظاہر ہے کہ اکثر احادیث غایت درجہ مفیدطن ہیں اور ظنی نتیجہ کی منتج ہیں صرف متواتر احادیث کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ وہ مفید یقین ہیں۔مگر اول تو ان کی تعداد بہت ہی قلیل ہے دوسرے وہ بھی ایسی یقینی نہیں جیسا کہ قرآن شریف اور وہ قرآن شریف کے مقابل میں نہیں رکھی جاسکتیں۔اب میں حامیان قتل مرتد کے اس حقارت آمیز دعوی کو لیتا ہوں جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ خیال کہ جو حدیث صحت و درستی کے مقررہ اور مفید یقین معیار پر پوری اترے اس کا معارض نص قرآنی ہونا اس کی پذیرائی کے مانع ہے اہلِ علم کے نزدیک پر کاہ جتنی وقعت بھی نہیں رکھتا۔حامیان قتل مرتد نے اپنے اس بیان میں جو قرآن شریف کی ہتک کی ہے وہ عیاں ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ان لوگوں میں ایمانی طاقت ایسی مردہ ہو چکی ہے کہ ان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تحریر میں صرف ان لوگوں کی ہتک نہیں کرتے جو ہر حال میں قرآن شریف کو مقدم کرتے ہیں اور جن میں حضرت عمر اور حضرت امامِ اعظم جیسے عظیم الشان انسان شامل ہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ کے کلام کی ہتک کرتے ہیں۔خیر۔مجھے ان کے احساس سے یہاں کوئی کام نہیں۔میں صرف ان کے بیان کا بطلان ظاہر کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔امید ہے کہ ائمہ ثلاثہ حامیان قتل مرتد کے نزدیک اہل علم میں شامل ہوں گے۔آؤ۔اب ہم دیکھیں کہ یہ بزرگ اس بارے میں کیا رویہ رکھتے ہیں؟ سنئے ! امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہوتو با وجود تواتر کے بھی کالعدم ہے۔امام مالک کے نزدیک خبر واحد کے ساتھ اگر آیت قرآنی کی تصدیق نہ