قتل مرتد اور اسلام — Page 161
161 ترک کر دیں کیونکہ قرآن شریف حدیث پر مقدم اور امام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَبِأَيِّ حَدِيثِ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (المرسلات : 51) کہ وہ بتائیں تو سہی کہ اس قرآن کے بعد وہ کس کتاب پر ایمان لائیں گے۔اس کے بعد میں حامیان قتل مرتد پر یہ امر بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ یہ طریق دنیا جہان سے نرالا ہے۔صحیح البخاری کی کتاب الجنائز میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حدیث ان الميت يعذب ببعض بكاء اهله کو قرآن کریم کی آیت لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری کے معارض و مخالف پاکر حدیث کی سیه تاویل کر دی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کی جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کر جاتے تھے۔پھر بخاری میں یہ حدیث لکھی ہے کہ قَالَ هَلْ وَجَدْتُمُ مَّا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمُ حَقًّا۔اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ نے اس کے سیدھے اور حقیقی معنے کے رو سے قبول نہیں کیا اس عذر سے کہ یہ قرآن کریم کے معارض ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتی اور ابن عمر کی حدیث کو اس وجہ سے رد کر دیا ہے کہ ایسے معنے معارض قرآن ہیں۔ایسا ہی محققوں نے بخاری کی اس حديث كو كه ما من مولود يو لد الا والشّيطان يمسه حين يولد فيستهلّ صارخا من مس الشيطان اياه الامريم وابنها قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پاکر کہ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ وَإِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن - وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ اس حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو اُن دونو کی صفت پر ہوں۔جیسا کہ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد ۸ صفحہ ۱۵۹ میں لکھا ہے۔وقد طعن صاحب الكشاف في معنى هذا الحديث و توقف في صحته فقال ان صح هذا الحديث فمعناه ان كلّ مولود يطمع