قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 160 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 160

160 ان کا اتنا بھی مرتبہ نہیں جو ایک آیت کے مقابلہ پر ایک کروڑ ان میں سے وہ رنگ اور شان پیدا کر سکے جو اللہ جل شانہ کی بے مثل کلام کو حاصل ہے۔حدیثوں میں ضعف کی وجوہات اس قدر ہیں کہ ایک دانا آدمی ان پر نظر ڈال کر ہمیشہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ ان کو تقویت دینے کے لئے کم از کم نص قرآنی کا کوئی اشارہ ہی ہو۔یہ سچ ہے کہ حدیثیں صحابہ کی زبان سے بتوسط کئی راویوں کے مؤلفین صحاح تک پہنچتی ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ جہاں تک ممکن ہے مؤلفین صحاح نے حدیثوں کی تنقید و تفتیش میں بڑی بڑی کوششیں کی ہیں مگر پھر بھی ہمیں ان پر وہ بھروسہ نہیں کرنا چاہئیے جو اللہ جلشانہ کی کلام پر کیا جاتا ہے۔کیونکہ کئی واسطوں سے اور معمولی انسانوں کے ہاتھوں سے دست و مال ہو کر ائمہ حدیث کو ملی ہیں نہ خود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمع کرنے یا ان کے لکھوانے کی طرف توجہ فرمائی نہ صحابہ کرام نے اس کام کو اپنے ذمہ لیا اور نہ خدا تعالیٰ نے احادیث کی حفاظت کا وعدہ فرمایا جس طرح کہ اس نے قرآن شریف کی حفاظت کا وعدہ فرمایا۔علاوہ ازیں احادیث کو جمع کرنے کا کام آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک لمبا زمانہ بعد شروع کیا گیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں کثرت سے اختلاف اور تناقض پایا جاتا ہے۔پس جب قرآن شریف کے مقابل میں احادیث کا یہ حال ہے تو حامیان قتل مرتد ہمیں خود ہی بتلائیں کہ اگر قرآن شریف اور حدیث میں باہم تعارض اور تناقض نظر آوے تو پھر ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے ؟ اور قرآن شریف اور حدیث میں سے کس کو اختیار کریں اور کس کو ترک کریں؟ ایسی صورت میں جو معیار ہم نے پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآن شریف کی آیات اور احادیث میں ہمیں اختلاف نظر آئے تو ہمیں پہلے یہ کوشش کرنی چاہئیے کہ ان میں باہم تطبیق کی جائے اور احادیث کے ایسے معنے کئے جاویں جو قرآن شریف کی تعلیم کے مطابق ہوں۔اور اگر ہم کسی طرح بھی تطبیق نہ کر سکیں تو پھر سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم قرآن شریف کو اختیار کریں اور حدیث کو