قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 120 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 120

120 کی طرف چلا جاتا ہے اور زبان اس تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔اس کے بعد اب وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو ایک حکومت سے نکل کر دوسری حکومت کی ماتحتی اختیار کرتا ہے اس لئے وہ اپنے سابق مذہب کی حکومت سے باہر چلا جاتا ہے اس لئے اس مذہب کی حدود کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔مولوی ظفر علی خان صاحب خود ایک موقع پر اس اصل کو تسلیم کرتے ہیں اور ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسا ایک سلطنت سے نکل کر دوسری سلطنت کے ماتحت چلے جانا اور اس صورت میں وہ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ پہلے مذہب کے قوانین اس پر جاری نہیں ہو سکتے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں :۔"جو شخص آج افغانستان میں سکونت پذیر ہے اور افغانستان کے قوانین کا پابند ہے اگر کل نقل مکانی کر کے ہندوستان میں چلا آئے تو اسے عدالت و قانون کے افغانی شکنجہ میں نہ جکڑ نا چاہئیے بلکہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئیے جو انگریزی رعایا کے ساتھ ہوتا ہے۔“ مولوی صاحب شاباش! آپ نے کیا ہی سچ کہا ہے! اسی اصول پر میں کہتا ہوں کہ جو شخص ایک مذہب کے قوانین کا پابند ہے اگر کل تبدیلی مذہب کر کے دوسرے مذہب میں چلا جائے تو اسے پہلے مذہب کے قانون کے شکنجہ میں نہ جکڑ نا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو دوسرے مذہب کے پیروؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔پس اگر کوئی مسلمان ہندو یا عیسائی بن جائے تو آپ کے اصول ہی کے مطابق اس سے کوئی تعرض نہ کرنا چاہئیے۔مرتد کس سلطنت کا باغی ہے؟ ایک اور دلیل جو قتل مرتد کی تائید میں پیش کی گئی ہے یہ ہے کہ ارتداد، اسلام سے بغاوت کا نام ہے اور باغی کی سزا قتل ہے۔اس لئے مرتد کا قتل واجب ہے۔