قتل مرتد اور اسلام — Page 121
اقول: 121 قتل کا فتویٰ لگانے کے لئے جرم کی کیفیت کو صراحت کے ساتھ بیان کرنا چاہئیے اور وضاحت سے اس کی تعیین کرنی چاہئے۔مرتد کے لئے بغاوت کے جرم پر قتل کا فتویٰ دینے والے اپنا فتویٰ دینے سے پہلے ہمیں یہ بتائیں کہ مرتد کس سلطنت کا باغی ہے؟ کیا مسلمانوں کی ظاہری سلطنت کا یا اسلام کی آسمانی بادشاہت کا ؟ کیا ایک شخص محض اپنادین بدلنے سے مسلمانوں کی ظاہری سلطنت کا باغی ہو جاتا ہے؟ کیا دوسرے دین کی پیروی بغاوت کو مستلزم ہے؟ ریاست کابل کی نسبت ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے علاوہ کئی دیگر مذاہب کے پیرو بھی کثرت سے آباد ہیں اور وہ سب امیر کا بل کی رعایا ہیں اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔اب اگر ایک شخص ارتداد اختیار کر کے ہندو یا سکھ یا عیسائی ہو جاتا ہے تو اس کا یہ فعل مسلمانوں کی ظاہری سلطنت کے خلاف بغاوت کیونکر کہلا سکتا ہے؟ کیا رعایا کے ایک گروہ سے نکل کر دوسرے گروہ میں شامل ہو جانا بغاوت کہلاتا ہے۔اس نے ظاہری سلطنت کے خلاف کون سا بغاوت کا جھنڈا کھڑا کیا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ اسلام کی آسمانی بادشاہت کا ضرور باغی ہے مگر آسمانی بادشاہت کے باغیوں کو آسمانی بادشاہ خود سزا دیتا ہے۔اس امر میں وہ ہمارا محتاج نہیں۔اس کے لئے اس نے الگ انتظام کیا ہوا ہے۔وہ خدمت گزاروں کو انعام دیتا ہے اور باغیوں کو سزا دیتا ہے۔وفادار رعیت کو قرب کا انعام بخشتا ہے اور جنت کی نعمتیں عطا فرماتا ہے لیکن باغیوں کو جہنم کی آگ میں پھینکتا ہے۔اسی لئے وہ مرتدین کی نسبت فرماتا ہے:۔وَمَنْ يَرْتَدِدَ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَمَتْ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ اعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَأُولَيكَ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فيهَا خُلِدُونَ (البقرة: 218)