قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 119 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 119

119 دلائل کیوں دیتے ہیں جن سے ظلم کی حمایت ہو۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ایک غلط عقیدہ کی تائید کر رہے ہیں۔اسی وجہ سے جو دلائل آپ اس کی حمایت میں پیش فرماتے ہیں لازماً اس سے باطل کی حمایت پیدا ہوتی ہے۔نیز آپ نے اپنی دلیل میں بے حرمتی کا لفظ غلط طور پر استعمال کیا ہے۔اگر ایک شخص ایک مذہب کا پابند ہونے کا مدعی ہو اور اس کے تمام احکام کو درست مانتا ہو پھر وہ اس کے قوانین کی عمد اخلاف ورزی کرے تب کہا جائے گا کہ اس نے اس قانون کی بے حرمتی کی ہے۔جب تک وہ ایک مذہب کے پیروکار ہونے کا مدعی ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے قوانین کا احترام کرے اور خلاف ورزی کی صورت میں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر مقررہ حدود جاری کی جاویں۔لیکن اگر وہ اس مذہب کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کرتا ہے تو وہ اس فعل کے ساتھ ہی اس مذہب کے دائرہ عمل سے خارج ہو جاتا ہے۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص ایک حکومت سے نکل کر دوسری حکومت میں چلا جاتا ہے اور دوسری سلطنت کی رعایا میں اپنے آپ کو داخل کر دیتا ہے۔اب وہ پہلی حکومت کے قوانین کا پابند نہیں رہتا بلکہ نئی سلطنت کے قوانین اس پر نافذ ہوں گے۔ہاں ایک حکومت سے نکل کر دوسری حکومت کی رعایا بننے کے لئے نقل مکانی کی ضرورت ہے۔مگر ایک دین سے دوسرے دین میں جانے کے لئے کسی نقل مکان کی ضرورت نہیں۔صرف زبان کا اعلان اس کو ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف منتقل کرنے کے لئے کافی ہے۔ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں داخل ہونے کے لئے کسی سفر کی ضرورت نہیں کیونکہ مذاہب جغرافیہ کی حدود سے بالا ہیں۔ظاہری سلطنتیں جغرافیہ حدود کے ذریعہ سے ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ایک سلطنت سے دوسری سلطنت میں جانے کے لئے ضروری ہے کہ اُن کی حدود کو طے کیا جاوے۔لیکن مذاہب کی حکومتوں کو جغرافیہ کی حدود ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتیں۔دل کی تبدیلی سے انسان ایک مذہب سے دوسرے مذہب