قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 67 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 67

67 عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔سوائے ان لوگوں کے جواس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کرلیں اور اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے ہوں پھر وہ کفر میں اور بھی بڑھ گئے ہوں ان کی تو بہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔جولوگ منکر ہو گئے ہوں اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے ہوں ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی جسے وہ فدیہ کے طور پر پیش کریں ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے اور ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔مندرجہ بالا اقتباس میں دو آیات ایسی ہیں جن میں کفر بعد ایمان کا ذکر ہے اور ان دونوں آیات سے یہ امر صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ پہلے سچے دل سے اس نبی پر ایمان لے آئے اور زبان سے اس کی صداقت کا اقرار کیا اور اس طرح اقرار باللسان و تصدیق بالقلب کے مصداق ٹھہرے مگر پھر کسی نفسانی وجہ سے انکار کر دیا تو ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں مل سکتی لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف آنا چاہیں تو پھر خدا تعالیٰ ان کے لئے دروازے کھول دیتا ہے۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ارتداد کے بعد کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں کیونکہ یہ لوگ ایک طرف کفر میں بڑھتے جاتے ہیں اور دوسری طرف منہ سے تو بہ کرتے ہیں۔ان کی ایسی تو بہ فائدہ نہیں دیتی۔ان دونوں آیات سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ ارتداد کے بعد مرتد اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرتد دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو بعد میں سچی توبہ کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔دوسرے وہ جو اپنے کفر میں بڑھے چلے جاتے ہیں اور اگر تو بہ بھی کرتے ہیں تو