قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 68 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 68

68 جھوٹی ، ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت روک لیتا ہے اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔ان آیات کے پڑھنے سے پہلا اثر جو ہر ایک انصاف پسند انسان کے دل پر پڑتا ہے وہ یہی ہے کہ ارتداد کے بعد مرتدین پر کوئی جبر نہیں ہوتا وہ اپنے حال پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔جو بعد میں کچی تو بہ کریں تو ان کی تو بہ اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے اور جو لوگ کچی تو بہ نہیں کرتے اور اپنے کفر میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ایسے لوگ ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم رہتے ہیں اور گمراہی ہی میں اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔پس ان آیات میں یہ مفہوم ضرور مرکوز ہے کہ مرتد کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی تھی بلکہ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی تھی۔کچی تو یہ جبر اور قتل کے سوال کو رڈ کرتی ہے کیونکہ جب مرتد ہوتے ہی مسلمان تلوار کھینچ کر اس کے گرد ہو جاویں گے کہ تو بہ کرو ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا تو ایسے حال میں اس کی تو به جبر وا کراہ کی تو بہ ہوگی نہ کہ تو به نصوح۔اسی طرح مرتد کا اپنے کفر میں ترقی کرتے جانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور اسے لمبی مہلت دی جاتی ہے کسی تلوار سے اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔پس یہ دو نو آیتیں قتل مرتد کے عقیدہ کی تردید کر رہی ہیں۔ان آیات پر حامیان قتل مرتد نے یہ جرح کی ہے کہ ان کا سیاق و سباق بتلاتا ہے کہ یہاں پر اسلام لا کر مرتد ہونے کا ذکر نہیں بلکہ یہ کہ اہلِ کتاب حضور سرور کائنات پر ایمان لانے کا عہد و پیمان کرنے کے بعد آپ کی تشریف آوری پر تمام بینات سے منکر ہو گئے تھے اسی کفر بعد ایمان کا ان آیات میں ذکر ہے اور لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات کا یہ سلسلہ ارتداد پیش کرنا ہی قرآن (شریف) سے انتہا درجہ کے جہل کا ثبوت ہے۔مگر یہ مولوی صاحبان کی خوش فہمی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سلسلہ ارتداد میں ان آیات کا پیش کرنا قرآن شریف سے انتہا درجہ کے جہل کا ثبوت نہیں بلکہ ان کے یہ الفاظ خودان پر صادق آتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اوتیت جوامع الکلم ( بخاری ) یعنی جو کلام مجھے دیا گیا ہے اس میں یہ