قتل مرتد اور اسلام — Page 243
" 243 المسلمين و في قتلها كسر شوكتهم۔یعنی ام قرفہ کے تمہیں بیٹے تھے اور وہ ان کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے ابھارتی تھی۔اور اس کے قتل میں یہ فائدہ تھا کہ اس طرح اس کے بیٹوں کی شوکت ٹوٹ جاتی تھی۔پس ام قرہ کا قتل بھی اس کے ارتداد کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہ محاربہ تھی اس لئے اس کا قتل تعلیم قرآن کے عین مطابق تھا۔حضرت ابوبکر کے جنگوں کی طرح حضرت علی کے وقت کے بعض جنگوں سے بھی قتل مرتد کے دعویداروں نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے چنانچہ یہ کہا گیا ہے کہ حضرت علیؓ نے خارجیوں کو قتل کیا جو مرتد تھے۔اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے۔لیکن حامیان قتل مرتد کے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ یہاں بھی ان کی غرض پوری نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ ہے کہ خارجیوں سے جو لڑائی ہوئی وہ بھی بغاوت اور فتنہ کو فرو کرنے کے لئے تھی نہ کہ محض چند مسائل کے اختلاف کی وجہ سے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعات سے ظاہر ہے:۔(۱) حضرت علی نے ان سے گفتگو کرتے وقت فرمایا۔" فقال لهم لكم علينا ثلاثة ان لا نمنعكم من المساجد ولا من رزقكم من الفئ ولا نبدءكم بقتال مالم تحدثوا فسادا فخرجوا شيئًا بعد شئ الى ان اجتمعوا بالمدائن فراسلهم في الرجوع فاصروا على الامتناع حتى يشهد نفسه بالكفر لرضاه بالتحكيم ويتوب ثم راسلهم ايضا فأرادوا قتل رسوله ثم اجتمعوا على ان من لا يعتقد معتقدهم يكفر ويباح دمه وماله واهله وانتقلوا الى الفعل فاستعرضوا الناس فقتلوا من اجتاز بهم من المسلمين ومرعليهم عبدالله بن بن خباب الارت وكان واليا لعلى على بعض تلك البلاد و