قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 244 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 244

244 معه سريته وهي حامل فقتلوه وبقروا بطن سريته عن ولد فبلغ عليّا فخرج اليهم في الجيش الذي كان هياه للخروج فاوقع بهم بالنهروان۔“ (فتح الباری جلد 12 صفحہ 251) یعنی حضرت علیؓ نے ان سے کہا تھا کہ ہم تین باتیں اپنے ذمہ لیتے ہیں۔اول یہ کہ ہم تم کو مسجدوں سے نہیں روکیں گے۔غنیمت کے مال سے تم کو حصہ دیں گے اور تمہارے ساتھ جنگ کی ابتدا نہ کریں گے جب تک کہ تم خود فساد نہ کھڑا کرو۔اس کے بعد وہ آہستہ آہستہ وہاں سے نکل گئے اور انہوں نے مدائن میں اجتماع کیا۔وہاں حضرت علیؓ نے اُن کو پیغام بھیجا کہ وہ واپس آجاویں مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ہم واپس نہیں آئیں گے جب تک کہ تم اپنے متعلق یہ گواہی نہ دو کہ میں تحکیم پر راضی ہو جانے کی وجہ سے کافر ہو گیا اور پھر تو بہ نہ کرو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ پیغام بھیجا۔اس دفعہ انہوں نے چاہا کہ آپ کے ایلچی کوقتل کر دیں پھر انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جو شخص ان کے عقیدے کو قبول نہیں کرتا وہ کافر ہے اور اس کا خون بہانا اور اس کا مال لوٹ لینا اور اس کے گھر والوں کو قتل کر دینا مباح ہے۔اور انہوں نے یہ فیصلہ ہی نہ کیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا۔وہ لوگوں کو روک لیتے اور جو لوگ ان کے پاس سے گزرتے ان کو قتل کر دیتے۔ان کے پاس سے اتفاقاً عبداللہ بن حباب کا گزر ہو اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان ممالک میں سے بعض پر حاکم مقرر تھے اور ان کے ساتھ ان کی لونڈی تھی جو حاملہ تھی۔انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو قتل کر دیا اور ان کی لونڈی کا پیٹ چیر کر اس کا بچہ نکال دیا۔جب یہ خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ لشکر لے کر ان کی طرف نکلے اور نہروان کے مقام پر اُن پر حملہ کیا۔مندرجہ بالا واقعات سے جو سب تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں صاف ظاہر ہے