قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 242 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 242

242 باغی ہو گئے تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو اپنے اپنے علاقہ سے نکال دیا۔جولوگ ان میں سے اسلام پر قائم رہے ان کو قتل کیا۔بعض نے مدینہ پر چڑھائی کی اور سب اپنے اپنے علاقہ پر متصرف ہو کر اور فوجیں جمع کر کے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس لئے اسلام اور حکومت اسلام کی حفاظت کے لئے ان کا مقابلہ کرنا ایسا ہی ضروری ہو گیا تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مشرکین سے جنگ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔اور اگر کوئی قبیلے ایسے بھی تھے جن کا جرم صرف منع زکوۃ تک محدود تھا اور وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے تو ان کے ساتھ بھی قتال ضروری تھا۔کیونکہ ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے ایک حکومت کی رعایا اپنی حکومت کو سرکاری مالیہ ادا کرنے سے انکار کر دے۔اس لئے ضروری تھا کہ تلوار کے زور سے ان سے زکوۃ وصول کی جاوے۔علاوہ ازیں احتساباً بھی حکومت اسلامیہ کا فرض تھا کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر زکوۃ کے ادا کرنے سے انکار کرتے تھے ان کے خلاف تحذیری کارروائی کرے اور ان کو شرائع اسلام کی پابندی پر مجبور کرے۔اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد کے متعلق صرف ایک بات باقی رہ جاتی ہے جس کا جواب دے کر میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد کو ختم کرتا ہوں۔قتل مرتد کے دعویداروں نے اپنے دعوی کی تائید میں یہ بات بھی پیش کی ہے کہ حضرت ابوبکر نے ایک مرتد ہ امتم قرفہ کو قتل کیا۔مگر حامیان قتل مرتد یہ سن کر مایوس ہوں گے کہ یہاں بھی خالی ارتداد کا سوال نہ تھا۔اور اس کے قتل کی یہ وجہ نہ تھی کہ وہ مرتد ہو گئی تھی بلکہ اس کے قتل کی یہ وجہ تھی کہ وہ ایک محاربہ عورت تھی جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اکساتی تھی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکاتی تھی۔چنانچہ مبسوط جلد 10 صفحہ 110 پر لکھا ہے:۔وام قرفة كان لها ثلاثون ابناء وكانت تحرضهم على قتال