قتل مرتد اور اسلام — Page 226
226 فوثب بنو ذبيان وعبس على من فيهم من المسلمين وفعل ذالك غيرهم من المرتدين (ابن خلدون جلد ۲ صفحه ۶۶) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنتے ہی بنو ز بیان اور عبس نے لوگوں پر حملہ کر دیا جو اُن میں مسلمان تھے۔اور یہ کام صرف بنو ذ بیان اور عبس نے ہی نہ کیا بلکہ اُن کے سوا جو دوسری مرتد قو میں تھیں اُنہوں نے بھی اسی طرح اُن مسلمانوں کو قتل کر دیا جو اُن میں آباد تھے۔طبری نے لکھا ہے:۔فوثب بنو ذبيان وعبس على من فيهم من المسلمين وقتلوهم كل قتلة وفعل من وراء هم فعلهم۔(تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 1877) یعنی جو نہی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی بنو ذبیان اور عبس اُن مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے جو اُن میں رہتے تھے اور اُن کو ہر ایک طریق سے قتل کیا اور جو قو میں اُن کے علاوہ بستی تھیں اُنہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔یعنی انہوں نے بھی ایسے لوگوں کو قتل کر دیا جو اسلام پر قائم رہے۔اب حامیان قتل مرتد فرما دیں کہ کیا ان لوگوں کا جرم صرف یہی تھا کہ اُنہوں نے ارتداد اختیار کیا اور کیا ان لوگوں کے واقعات سے اُن کا یہ دعوی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل ہے۔اگر ان لوگوں کا جرم محض ارتداد نہ تھا بلکہ انہوں نے کھلم کھلا بغاوت اختیار کی اور مسلمانوں کو قتل کیا اور اس بات کی کوشش کی کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں اور اسلامی سلطنت کو جڑ سے اکھیڑ ڈالیں اور اسلام کو نابود کریں۔تو پھر اے حامیان قتل مرتد کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ آپ ایسے لوگوں کی مثال پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں محض ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل ہے۔کیا ایسی مثالوں کے پیش کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی ثبوت نہیں اس